Mazhar-ul-Quran - Saad : 49
هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ
ھٰذَا ذِكْرٌ ۭ : یہ ایک نصیحت وَاِنَّ : اور بیشک لِلْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں کے لیے لَحُسْنَ : البتہ اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
یہ ایک نصیحت ہے اور،2، بیشک پرہیزگاروں کے لیے (آخرت) اچھاٹھکانہ ہے
اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔ (ف 2) جو لوگ دنیا میں عذاب الٰہی سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے، اور عقبی کے ثواب کے اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لیے اچھاٹھکانہ ہے پھر اس اچھے ٹھکانے کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ بروز قیامت جنت کے دروازے ان کے واسطے کھلے ہوئے ہوں گے ، ہر طرح سے آراستہ ہوں گے اور وہ وہاں جاکر تخت عزت پر جلوہ افروز ہوں گے چھپر کھٹوں پر بیٹھیں گے تکیہ مسند لگائے ہوئے عیش و عشرت میں طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کے شربت اور شرابیں منگائیں گے اور جو خواہش ہوگی اور وہ فورا ان کے پاس حاضر ہوجائے گی اور وہاں حوریں ہوں گی نیچی نگاہوں والیاں کہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی طرف نگاہ نہ اٹھائیں اور سب حوریں نوجوان ایک عمر کی ہوگی یا شکل وشمائل خوبو میں اپنے ازواج کی ہم عمر معلوم ہوں گی، جب جنتی لوگ جنت میں طرح طرح کی نعمتوں سے خوش ہوں گے تو ان سے یہ کہا جائے گا کہ یہ وہی نعمتیں ہیں جن کا وعدہ تم سے دنیا میں اللہ کے رسولوں نے کیا تھا، اور یہ جنت کی نعمت عیش ایسی ہوگی کہ کبھی اس کو فنا و انقطاع نہ ہوگا، اہل جنت کے ذکر کے بعد آگے اہل دوزخ کا ذکر فرمایا کہ جن لوگوں نے دنیا میں نافرمانی کی مرنے کے بعد ان کے لیے براٹھکانہ دوزخ ہے ، جس میں یہ لوگ جھونکے جاویں گے اور ان کو کھولتا پانی اور پیپ پلائی جائے کی اور بھی چند دو چند اسی طرح کے عذاب ہوں گے۔
Top