Ruh-ul-Quran - Saad : 49
هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ
ھٰذَا ذِكْرٌ ۭ : یہ ایک نصیحت وَاِنَّ : اور بیشک لِلْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں کے لیے لَحُسْنَ : البتہ اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
یہ یاد دہانی ہے، بیشک اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے یقینا بہترین ٹھکانہ ہے
ھٰذَا ذِکْرٌ ط وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ ۔ (صٓ: 49) (یہ یاد دہانی ہے، بیشک اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے یقینا بہترین ٹھکانہ ہے۔ ) ایک اہم بات کی طرف توجہ چند عظیم القدر انبیائے کرام کے ذکر کے بعد نہایت اہم بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسانی کمزوری یہ ہے کہ عظیم شخصیتوں کے تذکروں سے وہ محظوظ تو ہوتا ہے لیکن سبق بہت کم سیکھتا ہے۔ بڑے لوگوں کے واقعات سن لینا بجائے خود ایسی نیکی ہے جس پر اکتفا کرلیا جاتا ہے۔ اور یا یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ بڑے لوگ تھے ان کی باتیں بھی بڑی ہیں، ان کے کارنامے بھی بڑے ہیں۔ ہم اگر ان کی نقل کرنا بھی چاہیں تو ہمارے لیے ممکن نہیں۔ اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ محض ماضی کے قصے نہیں بلکہ تمہارے لیے درس موعظت اور زندگی کے عظیم سبق ہیں۔ ان کی زندگیوں، ان کے کارناموں اور ان کے اعمالِ حسنہ کو دیکھ کر تمہیں اندازہ ہونا چاہیے کہ جس راستے پر ہمیں چلنے کا حکم دیا گیا ہے اس راستے کے مینارہ نور یہ ہیں۔ اور یہ وہ مشعلیں ہیں جن کی روشنی میں ہم زندگی کا سفر طے کرسکتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی بات جو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ نہایت اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے لوگ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ اور خشیت اس راستے کے وہ لازمی اوصاف ہیں جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کی ضمانت ہیں۔ اور نجات کی کامیاب صورت ہیں۔ انہی اوصاف کے باعث پہلے لوگوں کو اچھا ٹھکانا یعنی حُسنِ مآب نصیب ہوا۔ اور ہر دور میں یہ دولت انہی کے دم سے ملے گی۔
Top