Tadabbur-e-Quran - Saad : 49
هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ
ھٰذَا ذِكْرٌ ۭ : یہ ایک نصیحت وَاِنَّ : اور بیشک لِلْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں کے لیے لَحُسْنَ : البتہ اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
یہ یاد دہانی ہے اور بیشک اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے اچھا ٹھکانا ہے۔
ھذا ذکر وان للمتقین لحن ماب (49) خلاصہ بحث یہ مذکورہ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات سنانے کے بعد خلاصہ بحث سامنے کے دیا ہے۔ فرمایا کہ یہ یاد دہانی ہے، یعنی یہ محض ماضی کے قصے نہیں ہیں بلکہ تمہارے لئے بھی یہ درس موظت اور عظیم درس موعظت ہے اور یہ یاد رکھو کہ خدا کے ہاں اچھا ٹھکانا خا سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے، ان لوگوں کے لئے وہاں ذلت کی مار ہے جو خدا کی پر نصیحت کتاب کی باتیں سن کر اکڑتے اور اس کو جھٹلاتے ہیں۔ یہاں کلام کے تسلسل کو سمجھنے کے لئے پہلی آیت کے مضمون پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ آیت متقیوں کا صلہ یہ اس بہترین ٹھکانے کا بیان ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت ہیں حسن ماب کے الفاظ سے ہوا ہے۔ فرمایا کہ ان کے لئے ہمیشگی کے باغ ہوں گے جن کے دروازے ان کے لئے پہلے سے کھولے ہوئے ہوں گے۔ جس طرح کسی معزز مہمن کی آمد کے موقع پر پھاٹک کھول کر پہلے سے اس کا انتظار کیا جاتا ہے اسی طرح ان کے خیر مقدم کے لئے جنت کے پاسبان ان کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ شراب سے مراد مشروبات ہیں۔ وہ اس میں تختوں پر ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور اپنے خدام سے ہر قسم کے میوے اور مختلف قسم کے مشروبات طلب کر رہے ہوں گے۔
Top