Anwar-ul-Bayan - Saad : 49
هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ
ھٰذَا ذِكْرٌ ۭ : یہ ایک نصیحت وَاِنَّ : اور بیشک لِلْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں کے لیے لَحُسْنَ : البتہ اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
یہ نصیحت ہے اور پرہیزگاروں کیلئے تو عمدہ مقام ہے
(38:49) ھذا ذکر۔ (1) ھذا : اشارۃ الی ما تقدم من اموروہم یعنی یہ اشارہ ہے مقدم الذکر واقعات انبیاء کی طرف۔ ذکر۔ شرف لہم۔ (جو) ان کے لئے ایک شرف تھا۔ (بیضاوی۔ علامہ پانی پتی (رح)) (3) ھذا ذکر۔ یہ ہے ذکر۔ یعنی جو طریقہ مندرجہ بالا اخیار نے حرزجان بنا رکھا تھا شرف و عزت حاصل کرنے کا وہی طریقہ ہے۔ (4) ذکر کو تمام کرنے کے لئے عرب میں ھذا کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس بات کو یاد رکھو۔ یا اصل بات یہ ہے (تفسیر حقانی) اسی معنی میں ہے ذلک للانتقال من نوع من الکلام الی اخر۔ (روح المعانی) ایک نوع کلام سے دوسری نوع کی طرف انتقال کے وقت یہ لکھ دیتے ہیں۔ اس کی مثال آگے چل کر اسی سورت کی آیت 55 میں ہے۔ متقین کے لئے انعام و اکرام بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔ ھذا اوان للطغین لشرماب (38:55) متقین کی بات تو ہوچکی اور بیشک سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے۔ (5) ایک مضمون نصیحت کا تو یہ ہوچکا اور پرہیزگاروں کے لئے اچھا ٹھکانا ہے (بیان القرآن ، مظہری) حسن ماب۔ عمدہ لوٹنے کی جگہ۔ ملاحظہ ہو 38:25 ۔
Top