Anwar-ul-Bayan - Saad : 49
هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ
ھٰذَا ذِكْرٌ ۭ : یہ ایک نصیحت وَاِنَّ : اور بیشک لِلْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں کے لیے لَحُسْنَ : البتہ اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
یہ ایک نصیحت ہے اور بلاشبہ پرہیزگاروں کے لیے اچھا ٹھکانہ ہے،
متقی حضرات کی نعمتوں کا ذکر ( وَّاِِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَآبٍ ) (اور بلاشبہ پرہیزگاروں کے لیے اچھا ٹھکانا ہے) پھر اس ٹھکانے کی تفسیر بتائی (جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَہُمُ الْاَبْوَابُ ) (یعنی ہمیشہ رہنے کے باغیچے ہوں گے جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے) جب جنت میں داخل ہونے لگیں تو اس کے دروازے کھلے ہوئے پائیں گے جیسا کہ ان لوگوں کا اکرام اور استقبال کیا جاتا ہے جنہیں مہمانی کے طور پر بلایا جاتا ہے سورة زمر میں اسی کو فرمایا (حَتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْھَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُھَا) اس کے بعد ان حضرات کے بیٹھنے کا اور میووں کا اور پینے کی چیزیں طلب کرنے کا تذکرہ فرمایا (مُتَّکِءِینَ فِیْہَا یَدْعُوْنَ فِیْہَا بِفَاکِہَۃٍ کَثِیْرَۃٍ وَّشَرَابٍ ) پھر ان کی بیویوں کا تذکرہ فرمایا (وَعِنْدَھُمْ قَاصِرَات الطَّرْفِ اَتْرَابٌ) (ان کے پاس ایسی بیویاں ہوں گی جو نظریں پست کیے ہوں گی یعنی اپنے شوہروں کے علاوہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھیں گی اور وہ ہم عمر بھی ہوں گی۔ )
Top