Jawahir-ul-Quran - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ : اور تو لے بِيَدِكَ : اپنے ہاتھ میں ضِغْثًا : جھاڑو فَاضْرِبْ بِّهٖ : اس سے مار اس کو وَلَا تَحْنَثْ ۭ : اور قسم نہ توڑ اِنَّا : بیشک ہم وَجَدْنٰهُ : ہم نے اسے پایا صَابِرًا ۭ : صابر نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
اور پکڑا اپنے ہاتھ میں37 سینکوں کا مٹھا پھر اس سے مارلے اور قسم میں جھوٹا نہ ہو ہم نے اس کو پایا جھیلنے والا بہت خوب بندہ تحقیق وہ ہے رجوع رہنے والا،
37:۔ ” وَ خُذْ الخ “۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کی بیوی نے جب طبیب (شیطان) والا قصہ ان سے بیان کیا اور اپنی طبیعت کا رجحان ظاہر کیا تو حضرت ایوب (علیہ السلام) نے ناراض ہو کر قسم کھالی کہ اللہ نے اگر مجھے صحت عطا فرمائی تو میں تجھے ایک سو چھڑی ماروں گا لیکن ان کی بیوی کا جذبہ ایثار و خدمت، اس کی وفا داری اور مصیبت میں پیغمبر (علیہ السلام) کی مخلصانہ خدمت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند تھی اس لیے اللہ نے محض اپنی مہربانی سے قسم کو پورا کرنے کا یہ حیلہ بتایا کہ پتلی پتلی سو شاخوں کا ایک مٹھا اٹھا کر اس کے مار دو تمہاری قسم پوری ہوجائے گی اور تم حانث نہیں ہوگے۔ تمثل الشیطان لھا فی صورۃ ناصحاو مداو وعرض لھا شفاء ایوب علی یدیہ علی شرط لا یمکن وقوعہ من مؤمن فذکرت ذلک لہ فعلم ان الذی عرض لھا ھو الشیطان وغضب لعرضہا ذالک علیہ فحلف، فحلل اللہ عیمینہ باھون شیء علیہ وعلیہا لحسن خدمتہا ایاہ ورضاہ عنہا (بحر ج 7 ص 401) ۔ یہ حیلہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ مختص تھا۔ اس پر قیاس کر کے حیلہ اسقاط وغیرہ کو جائز کہنا درست نہیں۔ (مروجہ حیلہ اسقاط کئی وجوہ سے ناجائز ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتب فقہ، نیز رسالہ توثیق الکلام فی رد حیلۃ الاسقاط المروجۃ فیما بین الانام شائع کردہ کتب خانہ رشیدیہ مدینہ مارکیٹ راولپنڈی) ۔ ہر وہ حیلہ جس سے حکمت تشریع باطل ہوجائے ناجائز اور حرام ہے، مروجہ حیلہ اسقاط سے بھی حکمت تشریع باطل ہوجاتی ہے اس لیے وہ بھی جائز نہیں۔ کل حیلۃ اوجب ابطال حکمۃ شریعیۃ لاتقبل الخ۔ (روح ج 23 ص 209) ۔ ” انا وجدانہ صابرا الخ “ یہ اللہ کی طرف سے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی تعریف و تحسین ہے۔ بیشک ہم نے ایوب (علیہ السلام) کو صابر پایا۔ اتنی طویل مصیبت میں وہ ایک بار بھی حرف شکایت زبان پر نہ لائے۔ وہ ہمارے بہت ہی اچھے بندے اور ہماری طرف رجوع وانابت کرنے والے تھے۔ اپنی تکلیف و مصیبت میں انہوں نے ہمارے سوا کسی کو نہیں پکارا۔
Top