Jawahir-ul-Quran - Saad : 88
وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠   ۧ
وَلَتَعْلَمُنَّ : اور تم ضرور جان لو گے نَبَاَهٗ : اس کا حال بَعْدَ : بعد حِيْنٍ : ایک وقت
اور معلوم کرلو گے اس کا احوال تھوڑی دیر کے پیچھے51 مدت کے بعد
51:۔ ” وَ لَتَعْلَمُنَّ الخ “ ” حین “ سے موت یا قیامت مراد ہے۔ یعنی اب دنیا میں تو نہیں مانتے ہو۔ لیکن ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم اپنے کفر و انکار کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ اور قرآن میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے۔ اس کی سائی کا بچشم خود مشاہدہ کرلو گے۔ لیکن اس وقت تلافی کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ سورة صٓ میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” اَجَعَلَ الْاٰ لِھَۃَ اِلٰھًا وَّا حِدًا (رکوع 1) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 2 ۔ ” اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ “۔ تا۔ ” قَلْیَرْتَقُوْا فِیْ الْاَسْبَابِ “ نفئ شرک فی التصرف۔ 3 ۔ ” وَ مَا مِنْ اِلٰہٍ “ تا۔ ” اَلْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ “ (رکوع 5) ۔ نفئ شرک فی التصرف و نفئ شفاعتِ قہری۔ سورة صٓ ختم ہوئی
Top