Kashf-ur-Rahman - Saad : 70
اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
اِنْ يُّوْحٰٓى : نہیں وحی کی جاتی اِلَيَّ : میری طرف اِلَّآ : سوائے اَنَّمَآ : یہ کہ اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا مُّبِيْنٌ : صاف صاف
میری جانب تو وحی صرف اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ میں خدا کی جانب سے صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں۔
(70) میری جانب جو وحی کی جاتی ہے وہ محض اس سبب سے کی جاتی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ یعنی میں اگر پیغمبر نہ ہوتا تو مجھے کیا خبر ہوتی کہ ملا اعلیٰ کے فرشتوں نے تخلیق آدم کے وقت کیا کہا اور اللہ تعالیٰ نے کیا جواب دیا اور وہ آپس میں کیا بحث و تکرار کررہے تھے یا بعض دوسرے مسائل ہیں ان میں کیا بحث ہوتی ہے اور کیا تکرار ہوتی ہے مجھے ان معاملات کی کیا خبر ہوتی لیکن وحی کے ذریعہ سے وہ باتیں مجھے معلوم ہوتی ہیں اور مجھ پر جو وحی آتی ہے وہ محض اس سبب سے آتی ہے کہ میں کھلا اور آشکارا ڈرانے والا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اعلیٰ فرشتے جوت دبیریں کرتے ہیں مجھ کو کیا خبر تھی کہ تم پاس بیان کرتا اللہ کی وحی سے کہتا ہوں اس مجلس میں جھگڑا نہیں مگر ہر کوئی اپنے کام کا تکرار کرتا ہے۔ خلاصہ : یہ کہ عالم بالا کے رہنے والے فرشتے امر کو نیہ کے متعلق جو تدبیریں کرتے ہیں وہ احکام تکونیہ کی تعمیل میں جو باہمی مذاکرات اور بحث و تکرار کیا کرتے ہیں اور میں تم کو وقتاً فوقتاً ان کی خبر بھی دیتا رہتا ہوں یہ سوائے وحی الٰہی کے کس طرح خبر دے سکتا ہوں۔ یہ آپس کی بحث اور گفتگو کو ۔ مختصمون فرمایا ورنہ کوئی جھگڑا جیسا کہ اہل نار میں ہوگا وہ جھگڑامراد نہیں۔ شاید اسی بنا پر آگے تخلیق آدم کا ذکر فرمایا کیونکہ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد اور ملائکہ کا جواب منقول ہے ترمذی شریف کی ایک طویل حدیث میں بھی فبم یختصم الملاء الاعلیٰ مذکور ہے اور نبی کریم ﷺ کا فیصلہ کن بیان دینا بھی مذکور ہے۔
Top