Tafseer-e-Mazhari - Saad : 70
اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
اِنْ يُّوْحٰٓى : نہیں وحی کی جاتی اِلَيَّ : میری طرف اِلَّآ : سوائے اَنَّمَآ : یہ کہ اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا مُّبِيْنٌ : صاف صاف
میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں
ان یوحی الی الا انما انا نذیر مبین میرے پاس جو وحی آتی ہے تو اس سبب سے آتی ہے کہ میں (منجانب اللہ) کھلا ہوا پیغمبر ہوں (یہ ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی کے ترجمہ کی بنیاد پر کیا گیا ہے ‘ اس میں زیادہ الفاظ مولانا تھانوی کے ہیں۔ مترجم) الْمَلَاِ الْاَعْلٰی یعنی فرشتے۔ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَجب ملائکہ بحث و گفتگو کر رہے تھے۔ ملائکہ کی گفتگو اور سوال و جواب کی کتب سابقہ کی صراحتوں کے موافق خبر ‘ جبکہ ملائکہ کی گفتگو نہ سنی ہو نہ کوئی آسمانی کتاب پڑھی ہو ‘ بغیر وحی کے ناممکن ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ملائکہ کی گفتگو جو تخلیق آدم کے سلسلے میں تھی ‘ یختصمون میں وہی مراد ہے۔ اللہ نے فرشتوں سے فرمایا تھا : اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ۔ فرشتوں نے سوال کیا : اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآءَ ۔ حضرت عبدالرحمن بن عائش حضرمی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : میں نے اپنے رب کو نہایت ہی حسین شکل میں دیکھا۔ رب نے مجھ سے فرمایا : محمد ﷺ ! عالم بالا والے کس بات میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : اے میرے رب ! تو ہی خوب جانتا ہے ‘ یہ بات دو مرتبہ فرمائی۔ میرے رب نے میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنی ہتھیلی رکھ دی جس کی خنکی مجھے سینہ کے الے حصہ میں بھی محسوس ہوگئی اور آسمان و زمین میں جو کچھ (ہو رہا) تھا ‘ مجھے معلوم ہوگیا۔ پھر حضور ﷺ نے آیت وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ الْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ تلاوت کی ‘ اور فرمایا : اس کے بعد میرے رب نے پوچھا : محمد ﷺ ! عالم بالا والے کس بات میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : کفارات کے متعلق بحث کر رہے ہیں (یعنی کن کن چیزوں سے گناہوں کا اتار اور کفارہ ہوجاتا ہے) فرمایا : کفارات کیا (کیا) ہیں ؟ میں نے عرض کیا : پاؤں سے چل کر (نماز کی) جماعتوں کی طرف جانا ‘ نماز کے بعد (دوسری نماز کے) انتظار میں (مسجدوں میں) بیٹھا رہنا اور ناگوار امور (مثلاً برفیلا ٹھنڈا پانی اور سخت سردی) کے باوجود پورا پورا فضو کرنا۔ فرمایا : جو ایسا کرے گا ‘ وہ بخیریت زندہ رہے گا ‘ بخیریت مرے گا اور اس کے گناہ (معاف کر دئیے جائیں گے اور) ایسے (دور) ہوجائیں گے جیسے اس روز تھے جبکہ وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا ‘ اور (کفارات کے بعد) درجات (کے حصول کے ذرائع) میں سے ہے (بھوکوں کو) کھانا کھلانا ‘ اور (مسلمانوں کو) سلام کرنا اور رات کو جب سب لوگ سوتے ہوں (نماز کیلئے) کھڑا ہونا۔ رب نے فرمایا : (محمد ﷺ کہو : اے اللہ ! میں تجھ سے پاک چیزیں مانگتا ہوں اور بری چیزیں (ممنوع) چھوڑ دینے کی توفیق چاہتا ہوں اور مسکینوں کی محبت کا خواستگار ہوں اور اس بات کا طلبگار ہوں کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور جب تو کس قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے تو مجھے آزمائش میں ڈالنے سے پہلے ہی وفات دے دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! بلاشبہ یہ سب باتیں سچی ہیں ‘ رواہ البغوی فی شرح السنۃ وتفسیرہ) ۔ دارمی کی روایت ولیکون من الموقنین تک ہے۔ ترمذی نے یہ حدیث بغوی کی روایت سے بحوالۂ حضرمی بھی بیان کی ہے اور حضرت ابن عباس اور حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے کچھ بدلے ہوئے الفاظ کے ساتھ اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ہے۔ کفارات کے معاملہ میں ملاء اعلیٰ کی بحث سے شاید یہ مراد ہو کہ فرشتوں کی ایک جماعت ان نیکیوں کو لکھنے میں ایک دوسرے سے پیش دستی کرتے ہیں تاکہ اللہ کے سامنے سب سے پہلے وہی پیش کریں۔ جیسا کہ حضرت رفاعہ بن رافع کی روایت میں آیا ہے ‘ حضرت رفاعہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ‘ جونہی آپ نے رکوع سے سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہکہا ‘ فوراً پیچھے (مقتدیوں میں سے) ایک شخص نے رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارْکًا فِیْہِ کہا۔ حضور ﷺ نے نماز پوری کرلی تو فرمایا : ابھی کس نے یہ بات کہی تھی ؟ اس شخص نے کہا : میں نے کہی تھی ؟ اس شخص نے کہا : میں نے کہی تھی۔ فرمایا : کچھ اوپر تیس فرشتوں کو دیکھا کہ وہ پیش دستی کر رہے تھے کہ کون ان کلمات کو پہلے لکھے (رواہ البخاری) ۔ اِنَّمَآ اَنَا نَذیْرٌ مُّبِیْنٌیا یُوْحٰیکانائب فاعل ہے ‘ یعنی میرے پاس بس وحی آتی ہے کہ میں تم کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں ‘ یا فقرۂ مذکورہ مفعول لہٗ اور علت ہے اور یوحٰی کا نائب فاعل وہ مصدر ہے جو فعل سے سمجھ میں آ رہا ہے ‘ یعنی میرے پاس وحی بس اس غرض سے آتی ہے کہ میں نذیر مبین ہوں۔ پیغمبری کا مقصود ہی نافرمانوں کو عذاب سے ڈرانا ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ نباء عظیم سے مراد ہے حضرت آدم اور ابلیس کا قصہ ‘ اور بغیر سنے اس کی خبر دینا ‘ اور ملاء اعلیٰ سے مراد ہیں افراد قصہ ‘ یعنی ملائکہ اور آدم اور ابلیس ‘ یہ سب آسمان پر تھے اور ان کی باہم گفتگو ہوئی تھی۔
Top