Tafseer-e-Majidi - Saad : 70
اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
اِنْ يُّوْحٰٓى : نہیں وحی کی جاتی اِلَيَّ : میری طرف اِلَّآ : سوائے اَنَّمَآ : یہ کہ اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا مُّبِيْنٌ : صاف صاف
میرے پاس وحی تو صرف اس لئے آتی ہے کہ میں بس ڈرانے والا (بنا کر بھیجا گیا) ہوں،62۔
62۔ (اور مجھے اب جو اس کی خبر ہوئی ہے وہ محض وحی کے ذریعہ سے) (آیت) ” یختصمون “۔ اللہ سے فرشتوں کی گفتگو میں سوال و جواب تو بہرحال واقع ہوا ہی تھا اس کی اختصام سے تعبیر ای ظاہری مشابہت کی بناء پر ہے۔ لاشک ان جری ھناک سوال و جواب وذلک یشابہ المخاصمۃ والمناظرۃ والمشابھۃ علۃ لجواز المجاز فلھذا السبب حسن اطلاق لفظ المخاصمۃ علیہ (کبیر)
Top