Tafseer-e-Usmani - Saad : 70
اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
اِنْ يُّوْحٰٓى : نہیں وحی کی جاتی اِلَيَّ : میری طرف اِلَّآ : سوائے اَنَّمَآ : یہ کہ اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا مُّبِيْنٌ : صاف صاف
مجھ کو تو یہی حکم آتا ہے کہ اور کچھ نہیں میں تو ڈر سنا دینے والا ہوں کھول کر11
11  ملاء اعلیٰ (اوپر کی مجلس) ملائکہ مقربین وغیرہم کی مجلس ہے جن کے توسط سے تدابیر الٰہیہ اور تصریفات کونیہ ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ یعنی ملاء اعلیٰ میں نظام عالم کے فناء وبقاء کے متعلق جو تدبیریں یا بحثیں اور قیل و قال ہوتی ہے۔ مجھے اس کی کیا خبر تھی جو تم سے بیان کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے جن اجزاء پر مطلع فرما دیا وہ بیان کردیے۔ جو کچھ کہتا ہوں اسی کی وحی و اعلام سے کہتا ہوں۔ مجھ کو یہ ہی حکم ملا ہے کہ سب کو اس آنے والے خوفناک مستقبل سے خوب کھول کھول کر آگاہ کروں۔ رہا یہ کہ وہ وقت کب آئے گا اور قیامت کب قائم ہوگی ؟ نہ اندازے کے لیے اس کی ضرورت ہے نہ اس کی اطلاع کسی کو دی گئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ چند انبیاء (علیہم السلام) کے ایک اجتماع میں قیامت کا ذکر چلا کہ کب آئے گی سب نے حضرت ابراہیم پر حوالہ کیا انہوں نے فرمایا کہ مجھے علم نہیں۔ پھر سب نے حضرت موسیٰ پر حوالہ کیا ان کی طرف سے بھی وہ ہی جواب ملا۔ آخر سب نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرف رجوع کیا فرمایا " وجہ الساعۃ " (عین قیامت کے وقوع کی گھڑی) تو مجھے بھی معلوم نہیں البتہ حق تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے الخ اور ایک حدیث میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے حضرت جبرائیل سے قیامت کے آنے کا وقت دریافت کیا۔ فرمایا۔ " ما المسؤول عنہا باعلم من السائل " یعنی میں تم سے زیادہ نہیں جانتا۔ معلوم ہوا کہ ملاء الاعلیٰ میں قیامت کے متعلق اس قسم کی کچھ بحث و تکرار رہتی ہے۔ اور اس کے علاوہ اور بہت مسائل ہیں جن میں ایک طرح کی تکرار اور قیل و قال ہوتی ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں اللہ تعالیٰ کا آپ سے کئی مرتبہ سوال کرنا۔ " فیم یختصم الملاء الاعلی " اور آپ کا جواب دینا مذکور ہے۔ مگر وہاں کے مباحثات کا علم بجز وحی الٰہی کے اور کس طرح ہوسکتا ہے۔ یہ ہی ذریعہ ہے جس سے اہل نار کے تخاصم پر آپ کو اطلاع ہوئی۔ اسی سے ملاء الاعلیٰ کے اختصام کی خبر لگی اور جو تخاصم ابلیس کا آدم کے معاملہ میں ہوا جس کا ذکر آگے آتا ہے وہ بھی اسی ذریعہ سے معلوم ہوا۔
Top