Tafseer-e-Baghwi - Saad : 70
اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
اِنْ يُّوْحٰٓى : نہیں وحی کی جاتی اِلَيَّ : میری طرف اِلَّآ : سوائے اَنَّمَآ : یہ کہ اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا مُّبِيْنٌ : صاف صاف
میری طرف تو یہی وحی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں
70، ان یوحی الی الا انما انا نذیرمبین، فراء کا قول ہے اگر توچا ہے تو بنالے ۔ ، انما ، موضع رفع میں واقع ہے۔ میری طرف وحی صرف اسی وجہ سے کی گئی تا کہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو ڈراؤں ۔ ابو جعفر نے، انما، الف کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ وحی بھی ایک قول ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عائش حضرمی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے میں نے اپنے رب کو نہایت ہی حسین شکل میں دیکھا۔ رب نے مجھ سے فرمایا محمد ﷺ عالم بالا والے کس بات میں بحث کررہے ہیں ، میں نے عرض کیا، اے میرے رب ! تو ہی خوب جانتا ہے ، یہ بات دومرتبہ فرمائی۔ میرے رب نے میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنی ہتھیلی رکھ دی جس کی خنکی مجھے سینے کے اگلے حصہ میں بھی محسوس ہوگئی اور آسمان و زمین میں جو کچھ ہورہا تھا مجھے معلوم ہوگیا۔ پھر حضور ﷺ نے آیت، وکذلک نری ابراھیم ملکوت السموات والارض ولیکون من المؤقنین، تلاوت فرمائی اور فرمایا اس کے بعد میرے رب نے پوچھا محمد ﷺ بالا والے کس بات میں بحث کررہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا، کفارات کے متعلق بحث کررہے ہیں۔ فرمایا کفارات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا پاؤں سے چل کر جماعت کی طرف جانا نماز کے بعد ، دوسری نماز کا انتظار کرنا اور ناگوار امور کے باوجود ٹھنڈے پانی سے پورا وضوکرنا۔ فرمایا جو ایسا کرے گا وہ بخیریت زندہ رہے گا۔ بخیریت مرے گا اور اس کے گناہ ایسے دور ہوجائیں گے جیسے اس روز تھے جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں پیدا ہوا تھا اور درجات میں سے ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا اور مسلمانوں کو سلام کرنا اور رات کو جب سب لوگ سوتے ہوں نماز کے لیے کھڑا ہونا ، رب نے فرمایا، کہواے اللہ ! میں تجھ سے پاک چیزیں مانگتا ہوں اور بری چیزیں چھوڑدینے کی توفیق چاہتا ہوں اور مسکینوں کی محبت کا خواستگارہوں اور اس بات کا طلب گارہوں کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر حم فرما اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے تو مجھے آزمائش میں ڈالنے سے پہلے ہی وفات دے دے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ محمد ﷺ کی جان ہے، بلاشبہ یہ سب باتیں سچی ہیں۔
Top