Tafseer-e-Madani - Saad : 15
وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
وَمَا يَنْظُرُ : اور وہ انتظار نہیں کرتے هٰٓؤُلَآءِ : یہ لوگ اِلَّا : مگر صَيْحَةً : چنگھاڑ وَّاحِدَةً : ایک مَّا لَهَا : جس کے لیے نہیں مِنْ : کوئی فَوَاقٍ : ڈھیل
یہ لوگ تو اب (اپنے آخری انجام کے لئے) ایک ہی مرتبہ کی ایسی ہولناک آواز کی انتظار میں ہیں جس میں دم لینے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہوگی
18 منکرین کے لیے تنبیہ وتحذیر : سو منکرین کے لیے تنبیہ وتحذیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اب یہ لوگ ایک ہی ہولناک آواز کے منتظر ہیں "۔ مراد ہے نفخ صور۔ یعنی حق کی وضاحت میں اب کوئی کسر و کمی باقی نہیں رہ گئی۔ اب یہ لوگ گویا اپنے آخری انجام اور قیامت ہی کے منتظر ہیں۔ سو انکے عذاب کا وہ وقت آجائے گا تو پھر اس سے بچنے کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو منکرین جو اپنے کبر و غرور میں مبتلا ہو کر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب وہ عذاب آئے گا تو ایک جھڑکی ہی سے ان کا کام تمام ہوجائے گا۔ 19 منکرین کے لیے عذاب کی بےپناہی کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے عذاب کے لیے ایک جھڑکی ہی کافی ہوگی۔ اس لیے عذاب مانگنے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر و کوشش کی ضرورت ہے۔ " فواق " دراصل اس وقفے کو کہا جاتا ہے جو دودھ نکالتے وقت دو حلبوں کے درمیان میں پایا جاتا ہے۔ وہ چونکہ بہت ہی معمولی سا وقفہ ہوتا ہے اس لئے محاورے میں یہ قلت سے کنایۃ ہوتا ہے۔ یعنی قیامت کے آجانے اور اس ہولناک وقت کے پہنچ جانے کے بعد ایسے غفلت شعار لوگوں کو اتنا وقت بھی نہیں مل سکے گا جتنا کہ دو حلبوں کے درمیان ہوتا ہے۔ کہ وہ بالکل اچانک آجائے گی۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { لا تَأْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً } ۔ " الفَوَاقُ مَابَیْنَ حَلْبَتَیْ حَالِبْ وَرَضْعَتَی الرَّاضع " ۔ (جامع البیان، المراغی وغیرہ) ۔ سو عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ یہ لوگ اس عذاب سے بچنے کی فکر کریں قبل اس سے کہ یہ اپنے اس ہولناک انجام سے دوچار ہوجائیں۔ سو ان لوگوں کی ہلاکت و تباہی کے لیے خداوند قدوس کی ایک ہی جھڑکی اور ڈانٹ کافی ہوگی۔ پھر ایک لمحے کے لیے بھی ان کو کوئی فرصت نصیب نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top