Tafseer-e-Mazhari - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ : آپ صبر کریں عَلٰي : اس پر مَا يَقُوْلُوْنَ : جو وہ کہتے ہیں وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عَبْدَنَا : ہمارے بندے دَاوٗدَ : داؤد ذَا الْاَيْدِ ۚ : قوت والا اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : خوب رجوع کرنے والا
(اے پیغمبر) یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو صاحب قوت تھے (اور) بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے
اصبر علی ما یقولون واذکر عبدنا داود یہ کافر جو کچھ (مذاق اڑانے اور جھٹلانے کیلئے) کہتے ہیں ‘ آپ صبر کیجئے اور ہمارے بندے داؤد کا ذکر کیجئے۔ انبیاء کا تذکرہ ایسے امور پر صبر کرنے پر آمادہ کرتا ہے جو طبیعت کو ناگوار ہوتی ہیں ‘ گناہوں سے بازداشت کرتا اور طاعت پر نفس کو قائم رکھتا اور ان کا پابند بناتا ہے۔ ذا الاید جو طاقتور اور سخت پکڑ والے تھے اور طاعت خداوندی میں بہت مضبوط تھے۔ انہ اواب وہ (مخلوق سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف اور گناہ کو چھوڑ کر طاعت کی طرف) بہت زیادہ لوٹنے والے تھے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی اللہ کے بڑے اطاعت گذار تھے۔ سعید بن جبیر نے کہا : اللہ کی بہت پاکی بیان کرنے والے تھے۔ حبشی زبان میں اوّاب کا معنی ہے : تسبیح کرنے والا۔ یہ جملہ دلالت کر رہا ہے کہ ذا الاید میں اید سے مراد دینی قوت ہے۔ شیخین نے صحیحین میں اور امام احمد و نسائی وابن ماجہ نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے زیادہ اللہ کو پسند داؤد کا (نفل) روزہ رکھنے کا طریقہ ہے ‘ داؤد (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے تھے ‘ ایک دن ناغہ کرتے تھے اور سب سے زیادہ پسندیدہ نماز اللہ کے نزدیک داؤد کی ہے ‘ داؤد آدھی رات سوتے تھے ‘ ایک تہائی رات نماز پڑھتے تھے ‘ پھر آخر رات میں (بقیہ رات یعنی) پوری رات کا چھٹا حصہ سو جاتے تھے (اس طرح دو تہائی رات سونے کیلئے اور ایک تہائی رات عبادت کیلئے انہوں نے مقرر کر رکھی تھی) ۔
Top