تفسیرِ مظہری

Tafseer-e-Mazhari · 4. An-Nisaa · Ayah 160

  1. فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ﴿160﴾

    1. فَبِظُلْمٍسو ظلم کے سبب
    2. مِّنَسے
    3. الَّذِيْنَ هَادُوْاجو یہودی ہوئے (یہودی)
    4. حَرَّمْنَاہم نے حرام کردیا
    5. عَلَيْهِمْان پر
    6. طَيِّبٰتٍپاک چیزیں
    7. اُحِلَّتْحلال تھیں
    8. لَهُمْان کے لیے
    9. وَبِصَدِّهِمْاور ان کے روکنے کی وجہ سے
    10. عَنْسے
    11. سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کا راستہ
    12. كَثِيْرًابہت
Translation · Tafseer-e-Mazhari
تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان پر حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے رستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے
Tafseer · Tafseer-e-Mazhari
فبظلم من الذین ہادوا پھر یہودیوں کی بےجا حرکتوں کی وجہ سے ہی ظلم سے مراد وہی بےجا حرکات ہیں جن کا ذکر اوپر کردیا گیا ہے یعنی وعدہ شکنی آیات خداوندی کا انکار۔ قتل انبیاء۔ مریم ( علیہ السلام) پر تہمت تراشی اور فخر کے ساتھ قتل مسیح کا دعویٰ کرنا۔ حرمنا علیہم طیبت احلت لہم وہ پاکیزہ چیزیں ہم نے ان کے لئے حرام کردیں۔ جو پہلے حلال کردیں گئی تھیں۔ ان طیبت محرمہکا ذکر سورة الانعام کی ان آیات میں کیا گیا ہے وَعَلَیَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍسے وَاِنَّا لَصَادِقُوْنَتک۔ یہ بھی احتمال ہے کہ طیّبَات سے مراد جنت کی پاکیزہ نعمتیں ہوں یہ مطلب آیت : وَاَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِیْنَکے مناسب ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ طیّبات سے مراد ہو دنیوی حلال رزق اور حرام کردینے سے مراد ہو انکو بامر تقدیری ان حلال چیزوں سے محروم و بےبہرہ رکھنا یعنی باوجودیکہ دنیا میں حلال پاکیزہ رزق بہت ہے مگر اللہ نے یہودیوں کو حلال پاکیزہ رزق سے محروم کردیا پس سوائے حرام ناپاک روزی کے وہ اور کچھ نہیں کھاتے اور حرام روزی دوزخ کا مستحق بنا دیتی ہے۔ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو گوشت حرام سے پیدا ہو دوزخ اسکے لئے زیادہ موزوں ہے۔ وبصدہم عن سبیل اللہ کثیرا اور بہتوں کو راہ خدا یعنی ایمان اور رسول اللہ ﷺ کے اعتبار سے روکنے کی وجہ سے۔