Ruh-ul-Quran - Saad : 29
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ
كِتٰبٌ : ایک کتاب اَنْزَلْنٰهُ : ہم نے اسے نازل کیا اِلَيْكَ : آپ کی طرف مُبٰرَكٌ : مبارک لِّيَدَّبَّرُوْٓا : تاکہ وہ غور کریں اٰيٰتِهٖ : اس کی آیات وَلِيَتَذَكَّرَ : اور تاکہ نصیحت پکڑیں اُولُوا الْاَلْبَابِ : عقل والے
یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر تدبر کریں اور عقل رکھنے والے اس سے نصیحت حاصل کریں
کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰـہُ اِلَیْکَ مُبٰـرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰـتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَا اُولُوا الْاَلْبَابِ ۔ (صٓ: 29) (یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر تدبر کریں اور عقل رکھنے والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ ) نزولِ قرآن کا مقصد آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ انہی حقائق کی یاددہانی اور تفہیم کے لیے ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب اتاری ہے۔ اور اس کتاب کا وصف یہ ہے کہ یہ مبارک ہے۔ برکت کا لفظ اضافے کے لیے بولا جاتا ہے اور جب کتاب ہدایت کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد لغوی طور پر بھی افزائشِ خیروسعادت ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی کتابیں انسانوں کو خیروسعادت پر قائم کرنے کے لیے آتی ہیں جس سے ان کی دنیا بھی بنتی ہے اور آخرت میں بھی سرخروئی نصیب ہوتی ہے۔ اور کتاب کے ذریعے وہ اصول دیئے جاتے ہیں جو انسانی زندگی کی ترقی، افزائش اور بہتری کے لیے سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔ زندگی انفرادی ہو یا اجتماعی، اور اجتماعیت کا تعلق کسی بھی شعبہ زندگی سے ہو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہر مقام پر رہنمائی دیتی اور انسان کی معنوی ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔ وہ نہ تو انسانی زندگی میں مصنوعی اضافہ ہونے دیتی ہے جس سے غلط فہمیوں کو راستہ ملے۔ اور نہ زندگی کو ان راستوں پر نکلنے دیتی ہے جہاں انسانیت حیوانیت کے دائرے میں داخل ہوجائے۔ انسان کے لیے صراط مستقیم کھولنا، پھر اس پر چلنے کی ترغیب دینا اور راہ کی مشکلات کو آسان بنانا اور قدم قدم پر نگرانی بھی کرنا اور رہنمائی بھی دینا یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا وہ عمل ہے جس نے اس کو مبارک بنادیا ہے۔ لیکن اس کتاب سے فائدہ اٹھانے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کتاب کی رہنمائی کو قبول کرنے اور اس پر ایمان لانے والے اس کی آیات پر غور و فکر کریں۔ یعنی اپنے ہوش و خرد کو دوسرے ذرائع کے حوالے کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر غور و فکر کرنے کا ذریعہ بنائیں۔ وہ جیسے جیسے تدبر کے عمل کو جاری رکھیں گے ویسے ویسے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی حکمتیں ان پر کھلتی جائیں گی اور عقل کی سیرابی کی ضرورت بھی پوری ہوتی جائے گی۔ اور دوسرا کام یہ ہے کہ عقل والے صرف غور و فکر ہی نہ کریں بلکہ وہ اس سے نصیحت اور یاددہانی حاصل کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب بیک وقت عقل کو جلا بھی بخشتی ہے اور دل کو نور بھی مہیا کرتی ہے۔ عقل کی پیدا کردہ الجھنوں کا حل بھی اس میں موجود ہے اور دلوں کی بےتابیوں اور بےقراریوں کے لیے تسکین بھی اسی کتاب میں ہے۔
Top