Tafseer-e-Saadi - Saad : 29
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ
كِتٰبٌ : ایک کتاب اَنْزَلْنٰهُ : ہم نے اسے نازل کیا اِلَيْكَ : آپ کی طرف مُبٰرَكٌ : مبارک لِّيَدَّبَّرُوْٓا : تاکہ وہ غور کریں اٰيٰتِهٖ : اس کی آیات وَلِيَتَذَكَّرَ : اور تاکہ نصیحت پکڑیں اُولُوا الْاَلْبَابِ : عقل والے
(یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں
آیت 29 اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی حکمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے زمین و آسمان کو باطل، یعنی بغیر کسی فائدے اور مصلحت کے کھیل تماشے کے طور پر عبث پیدا نہیں کیا۔ : (آیت) ” یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے “ اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان رکھتے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ : (آیت) ” پس کافروں کے لئے آپ کی ہلاکت ہے۔ “ یہ آگ ہے جو ان سے حق حاصل کرے گی اور انہیں پوری طرح عذاب میں مبتلا کرے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور حق کی خاطر تخلیق فرمایا ہے، ان کو اس لئے تخلیق فرمایا تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا مل علم، کامل قدرت اور لامحدود قوت کا مالک ہے اور وہی اکیلا معبود ہے اور وہ معبود نہیں ہیں جو زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی تخلیق نہیں کرسکتے۔ حیات بعد الموت حق ہے اور قیامت کے روز اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ کوئی جاہل شخص اللہ تعالیٰ کی حکمت کے بارے میں یہ گمان نہ کرے کہ وہ اپنے فیصلے میں نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا، اس لئے فرمایا : (آیت) ” کیا ہم انہیں جو ایمان لائے ہیں ان کی طرح بنادیں جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم متقین اور بدکاروں کو یکساں کردیں ؟ “ یعنی ایسا کرنا ہماری حکمت اور ہمارے حکم کے شایاں نہیں۔ : (آیت) ” یہ کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے۔ “ جو خیر کثیر اور علم بسیط کی حامل ہے۔ اس کے اندر ہدایت، ہر بیماری کی شفا اور نور ہے جس سے گمراہی کی تاریکیوں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے اندر ہر وہ حکم موجود ہے، جس کے مکلفین محتاج ہیں اور اس کے اندر ہر مطلوب کے لئے قطعی دلائل موجود ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق فرمایا ہے اس وقت سے لے کر اس کتاب سے زیادہ کوئی جلیل القادر کتاب نہیں آئی۔ (لیدبروآ ایتہ) یعنی اس کتاب جلیل کو نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں، اس کے علم کا استنباط کریں اور اس کے اسرار و حکم میں غور و فکر کریں۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم میں تدبر کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم میں تدبر اور غور و فکر کرنا سب سے افضل عمل ہے، نیز یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ قرأت جو تدبر و تفکر پر مشتمل ہو اس تلاوت سے کہیں افضل ہے جو بہت تیزی سے کی جا رہی ہو، مگر اس سے متذکرہ بالا مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو۔ : (آیت) ” تاکہ عقل صحیح کے حاملین اس میں غور و فکر کر کے ہر علم اور ہر مطلوب حاصل کریں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق اس عظیم کتاب سے نصیحت حاصل ہوتی ہے۔
Top