Urwatul-Wusqaa - Saad : 29
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ
كِتٰبٌ : ایک کتاب اَنْزَلْنٰهُ : ہم نے اسے نازل کیا اِلَيْكَ : آپ کی طرف مُبٰرَكٌ : مبارک لِّيَدَّبَّرُوْٓا : تاکہ وہ غور کریں اٰيٰتِهٖ : اس کی آیات وَلِيَتَذَكَّرَ : اور تاکہ نصیحت پکڑیں اُولُوا الْاَلْبَابِ : عقل والے
یہ ( قرآن کریم) ایک مبارک کتاب ہے جس کو ہم نے (اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل رکھنے والے اس سے نصیحت حاصل کریں
یہ قرآن ایک مبارک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے 29۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کتب سماوی ہی مبارک اور برکت والی ہیں لیکن ان سب سے بڑھ کر بابرکت کتاب الٰہی قرآن کریم ہی ہے اور اس کا بابرکت ہونا اظہر من الشمس ہے۔ اس لیے کہ ساری کتب سماوی میں تحریف ہوئی اور کسی کتاب کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے نہ لی کہ اس کتاب میں کوئی تحریف نہیں کرسکے گا بلکہ ساری کتب سماوی میں قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود قرآن کریم نازل کرنے والے نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے وضاحت کے لیے دیکھیں عروۃ الوثقی ج پنجم سورة الحجر کی آیت 9 ، ج ہشتم سورة القیامہ کی آیت 19 اس کے بعد مضمون دوبارہ دائود (علیہ السلام) کے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) کے بیان سے شروع کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ بھی نبی و رسول ہونے کے باوجود حکومت کے مالک تھے۔
Top