Tafseer-Ibne-Abbas - Saad : 48
وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں اِسْمٰعِيْلَ : اسماعیل وَالْيَسَعَ : اور الیسع وَذَا الْكِفْلِ ۭ : اور ذو الکفل وَكُلٌّ : اور یہ تمام مِّنَ : سے الْاَخْيَارِ : سب سے اچھے لوگ
اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کرو اور وہ سب نیک لوگوں میں سے تھے
(48۔ 51) اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کیجیے ذوالکفل ان کو اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک قوم کی ذمہ داری اور ضمانت لے لی تھی پھر اس کو پورا کیا یا یہ کہ اللہ تعالیٰ سے ایک چیز کا عہد کرلیا تھا پھر اس کو پورا کیا اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے سو انبیاء کرام کی ذمہ داری لے لی تھی ان کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل سے نجات دی اور یہ نیک آدمی تھے نبی نہیں تھے یہ سب اللہ کے نزدیک پسندیدہ لوگوں میں سے تھے نیک لوگوں کا تذکرہ تو ہوچکا یا یہ مطلب ہے کہ اس قرآن کریم میں اولین و آخرین کا ذکر ہے اور کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے لیے آخرت میں اچھا ٹھکانا ہے۔ اب ان کے ٹھکانے کی کیفیت بیان فرماتے ہیں کہ انبیاء اور صالحین کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے قیامت کے دن ان کے لیے کھلے ہوں گے اور وہ جنت کے ان باغوں میں خوشی کے ساتھ مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور وہ جنت میں قسم قسم کے میوے اور پینے کی چیزیں منگوائیں گے۔
Top