Jawahir-ul-Quran - Saad : 48
وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں اِسْمٰعِيْلَ : اسماعیل وَالْيَسَعَ : اور الیسع وَذَا الْكِفْلِ ۭ : اور ذو الکفل وَكُلٌّ : اور یہ تمام مِّنَ : سے الْاَخْيَارِ : سب سے اچھے لوگ
اور یاد کر اسماعیل کو39 اور الیسع کو اور ذوالکفل کو اور ہر ایک تھا خوبی والا
39:۔ ” وَ اذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ الخ “۔ یہ پانچویں نقلی دلیل ہے۔ ہمارے بندوں اسمعیل، الیسع، اور ذوالکفل کا ذکر بھی کرو یہ سب نیک اور برگزیدہ بندے تھے۔ ” ھٰذَا ذِکْرُ “ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر خیر سراپا عبرت و نصیحت ہے دنیا میں اگر ان پر کوئی تکلیف آتی ہے تو محض آزمائش کے لیے ورنہ آخرت میں تو ان کا مرتبہ بہت بلند ہوگا۔ ” وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ تا۔ مِنْہُ مِنْ نَّفَاد “۔ یہ بشارت اخروی ہے عام متقی اور پرہیز گار لوگوں کے لیے۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی شان کا اندازہ لگا لینا چاہئے کہ ان کو تو اس سے بھی زیادہ نعمتیں میسر ہوں گی۔ اللہ کے احکام کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی نافرمانی سے بچنے والوں کا انجام اچھا ہوگا۔ آخرت میں ان کو دائمی نعمتوں کے باغات (جنات عدن) عطا ہوں گے جن کے دروازے ان کی آمد سے پہلے ہی کھول دئیے جائیں گے۔ وہ ان میں کوچوں پر تکیہ لگائے آرام کریں گے۔ اور قسم قسم کے میوے اور مشروبات سے ان کی تواضع ہوگی۔ وہاں انہیں پاکدامن، عفیف اور ہم عمر بیویاں ملیں گی۔ اور ان سے کہا جائے گا، یہ تمام نعمتیں وہی ہیں جن کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا گیا تھا۔
Top