Al-Qurtubi - Saad : 48
وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں اِسْمٰعِيْلَ : اسماعیل وَالْيَسَعَ : اور الیسع وَذَا الْكِفْلِ ۭ : اور ذو الکفل وَكُلٌّ : اور یہ تمام مِّنَ : سے الْاَخْيَارِ : سب سے اچھے لوگ
اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کرو اور وہ سب نیک لوگوں میں سے تھے
48 ۔ 54:۔ حضرت یسع کا ذکر سورة الانعام اور ذی الکفل کا ذکر سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے ان میں سے ہر ایک کو نبوت کے لئے چنا گیا ہے۔ دنیا میں یہ ان کا ذکر جمیل ہے اور ایسا شرف ہے جس کے ساتھ دنیا میں ان کا ذکر کیا جاتا رہے گا دنیا میں اس ذکر کے ساتھ ساتھ قیامت میں اچھا ٹھکانہ ہے پھر اس کی وضاحت اس ارشاد سے کی جنت عدن۔ لغت میں عدن کا معنی ٹھہرنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ عدن بالمکان جب وہ مقیم ہو۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : جنت میں ایک محل ہے جس کو عدن کہتے ہیں جس کے اردگرد برج اور سبزہ زار ہیں اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں ہر دروازے پر پانچ ہزار دہاری دار یمنی چادریں ہیں اس میں کوئی داخل نہیں ہوگا مگر نبی ‘ صدیق اور شہید۔ مفتحۃ ترکیب کلام میں حال بن رہا ہے۔ الابواب کو رفع دیا گیا ہے کیونکہ یہ نائب الفاعل ہے۔ زجاج نے تقدیر کلام یوں کی ہے مفتحۃ لھم الابواب منھا فراء نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے مفتحۃ لھم ابوابھا یعنی ابواب پر الف لام مضاف الیہ کے عوض میں ہے۔ فراء نے اس قراءت کو بھی جائز قرار دیا ہے مفتحۃ لھم الابواب یعنی الابواب کو نصب دی ہے۔ فراء نے کہا : اصل میں مفتحۃ الابواب ہے پھر تو تنوین لایا اور الابواب کو نصب دی۔ فراء اور سیبویہ نے یہ شعر پڑھا : و ناخذ بعدہ بذناب عیش اجب اظھر لیس لہ سنام ہم اس کے بعد زندگی کی دموں کو پکڑنے والے ہونگے کمزوری کی وجہ سے جس کی کہ ان نہیں۔ یہاں مفتحۃ فرمایا مفتوحۃ نہیں فرمایا کیونکہ انہیں حکم کے ساتھ کھولا گیا ہے ہاتھ لگانے سے وہ نہیں کھلے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : یوں کہا جاتا ہے انفتحی فتنفتخ ‘ انغلقی فتنغلق (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فرشتے ان کے لئے دروازے کھولیں گے۔ متکین فیھا یہ حال ہے جسے عامل پر مقدم کردیا گیا ہے عامل یدعون ہے یعنی وہ جنات میں طلب کرتے ہوں گے ‘ جب کہ وہ ٹیک لگائے ہوں گے ‘ رنگا رنگ پھل اور کثیر مشروب کیونکہ کلام دلالت کر رہی ہے اس لیے کثیر کا لفظ حذف کردیا گیا ہے۔ و عندھم قصرت الطرف ایسی بیویاں ہونگی جو اپنی نظریں خاوندوں تک محدود رکھتی ہیں کسی اور طرف نظر نہیں کرتیں سورة الصافات میں یہ بحث گذر چکی ہے۔ اتراب۔ ہم عمران کی عمریں ایسی ہوں گی گویا سب ایک ہی دن میں پیدا ہوئی ہیں وہ حسن ‘ جوانی میں برابر اور تینتیس سال کی ہونگی۔ اتراب ‘ ترب کی جمع ہے یہ قاصرات کی صفت ہے کیونکہ قاصرات نکرہ ہے اگرچہ معرفہ کی طرف مضاف ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ الف لام اس پر داخل ہوتا جس طرح شاعر نے کہا : من القاصرات الطرف لو دب محول من الذر فوق الاتب منھا لاثرا وہ جھکی نظروں والی ہیں اگر ایک باریک چیونٹی ان کی قمیض کے اوپر سے گذرے تو وہ بھی اثر چھوڑ جاتی ہے۔ ھذا ما توعدون لیوم الحساب۔ یہ وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ عام قراءت تاء کے ساتھ ہے ما وعدون ایھا المومنون یعنی اے مومنو ! یہ وہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ‘ ابن کثیر ‘ ابن محیصن ‘ ابو عمرو اور یعقوب نے اسے یاء کے ساتھ پڑھا ہے (1) ‘ یہ سلمی کی قراءت ہے۔ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وان للمتقین لحسن ماب۔ پس یہ خبر لیوم الحساب میں لام ‘ فی کے معنی میں ہے۔ اعشی نے کہا المھیین مالھم لزمان السوء حتی اذا افاق افاقو ا وہ ذلیل و رسوا ہیں برے زمانے میں ان کے لئے کچھ بھی نہیں جب زمانہ کو افاقہ ہوتا ہے تو انہیں افاقہ ہوتا ہے۔ اس شعر میں لام ‘ فی کے معنی میں ہے۔ ان ھذا الرز قناما لہ من نفاد۔ یہ آیت اس امر پر دلیل ہے کہ جنت کی نعمتیں ہمیشہ ہونگی ختم نہ ہو نگی جس طرح فرمایا : عطاء غیر مجذوذ۔ ) ہود ( فلھم اجر غیر ممنون۔ ) التین (
Top