Mualim-ul-Irfan - Saad : 48
وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ
وَاذْكُرْ : اور یاد کریں اِسْمٰعِيْلَ : اسماعیل وَالْيَسَعَ : اور الیسع وَذَا الْكِفْلِ ۭ : اور ذو الکفل وَكُلٌّ : اور یہ تمام مِّنَ : سے الْاَخْيَارِ : سب سے اچھے لوگ
اور آپ تذکرہ کریں اسماعیل ، الیسع اور ذالکفل (علیہم السلام) کا ، اور یہ سب خوبی والے تھے ۔
ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔ (اسماعیل الیسع اور ذوالکفل علیہم السلام) آج کے درس کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین مزید انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر اسمعیل والیسع وذالکفل “۔ اور آپ تذکرہ کریں اسماعیل ، الیسع اور ذالکفل (علیہم السلام) کا (آیت) ” وکل من الاخیار “۔ یہ سب کے سب خوبی والے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی نبوت و رسالت کے لیے منتخب فرمایا ، ان میں سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے واقعات تو مشہور ہیں کہ آپ اپنے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں بڑھاپے میں تولد ہوئے پھر آپ کا باپ آپ کو اور آپ کی والدہ حضرت ہاجرہ ؓ کو مکہ کی بےآب وگیاہ سرزمین میں چھوڑ گیا ، پھر جب آپ بھاگنے دوڑنے کی عمر کی پہنچے تو باپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ کی گردن پر چھری چلا دی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا ۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے جس دوسرے نبی کا ذکر ہوا ہے وہ حضرت الیسع (علیہ السلام) ہیں جو حضرت الیاس (علیہ السلام) کے بعد ان کے جانشین بنے ان پر بھی بہت سی مصیبتیں آئیں جنہیں انہیں نے صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا ، گذشتہ سورة میں الیاس (علیہ السلام) کے بارے میں یہ تذکرہ ہوچکا ہے کہ دشمنوں کی ایذا رسانیوں کی وجہ سے آپ چھ ماہ تک روپوش بھی رہے بہرحال آپ کے جانشین الیسع (علیہ السلام) ہوئے جن کا ذکر بائیبل میں بھی موجود ہے ۔ تیسرے نبی ذالکفل (علیہ السلام) ہیں بعض انہیں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا بیٹا بتاتے ہیں تاہم یہ بھی انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے آپ کا لقب ذالکفل اس لیے مشہور ہوگیا تھا کہ آپ نے کسی شخص کی ضمانت دی تھی جس کی بنا پر آپ کو چودہ سال یا اس سے زیادہ عرصہ جیل میں گزارنا پڑا اللہ تعالیٰ کے اس نبی نے بھی مخالفین کے ہاتھوں تکلیفیں برداشت کیں بعض مفسرین ذالکلف کی وجہ تسمیہ یہ بتاتے ہیں کہ آپ کے دور کے جبار اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو قتل کردیتے تھے مگر آپ نے تقریبا ایک سو انبیاء کو پناہ دی اور ان کی کفالت کی ، اس لیے آپ کا لقب ذالکفل پڑگیا ، یہ سارے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نیک اور برگزیدہ انسان تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر و استقامت کا تذکرہ کرکے ان کے اسوہ حسنہ کو اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے ۔ (قرآن بطور نصیحت) آگے ارشاد (آیت) ” ھذا ذکر “ یہ قرآن پاک ذکر ہے ، ذکر کے دو معانی آتے ہیں اور یہاں پر دونوں درست ہیں ، ذکر کا ایک معنی تو نصیحت ہے اور قرآن پاک بلاشبہ سرتا پا نصیحت ہی نصیحت ہے اور اہل عقل وخرد لوگ اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں آیت 29 میں بھی گذر چکا ہے کہ ہم نے یہ کتاب اس لیے اتاری ہے کہ لوگ اس میں غور وفکر کریں (آیت) ” ولیتذکر اولوالالباب “۔ اور تاکہ عقلمند لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں ۔ ذکر کا دوسرا معنی شرف ہے یعنی یہ قرآن پاک بنی نوع انسان کے لیے بالعموم اور عربوں کے بالخصوص باعث عزت وشرف ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کا قانون ہے جو اس نے اپنے بندوں کے ہاتھ میں دیا ہے ، اس سے بڑا شرف کیا ہو سکتا ہے بشرطیکہ انسان میں اس غور وفکر کریں اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوجائیں ، مگر افسوس کا مقام ہے کہ اکثر لوگ نہ تو اس کو پڑھتے ہیں نہ اس میں غور وفکر کرتے ہیں نہ اس پر خود عمل کرتے ہیں اور اسے دوسروں تک پہنچاتے ہیں اور اس طرح اس کے فیوض وبرکات سے محروم رہتے ہیں ۔ (متقین کے لیے انعامات) اپنے بعض برگزیدہ بندوں کا ذکر کرنے کے بعد آگے مطلقا نیک لوگوں کو ملنے والے انعامات کا تذکرہ فرمایا ہے اور پھر ساتھ ساتھ برے لوگوں کا انجام بھی بیان کیا ہے ، اچھے لوگوں میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سرفہرست ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وان للمتقین لحسن ماب “۔ بیشک متقیوں کے لیے بہت اچھا ٹھکانا ہے متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر ، شرک اور معاصی سے بچتے ہیں اور حدود شرعیہ کا احترام کرتے ہیں امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) تقوی کا معنی ہی کرتے (1) (الطاف القدس مترجم ص 93) ہیں ” محافظت برحدود شرع یعنی شریعت الہیہ کی حدود کی حفاظت کرنا انسانی زندگی کا کوئی مرحلہ ہو ، عبادت و ریاضت ہو یا سیاست ومعیشت ، تجارت ہو یا روابط باہمی ہر سطح پر شریعت کی حدود کی حفاظت کرنے والا متقی کہلائے گا ۔ (جنت عدن) فرمایا ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ” جنت عدن “ قابل رہائش باغات ہیں بعض باغات محض پیداوار کے لیے ہوتے ہیں اور ان میں کسی کی ذاتی رہائش نہیں ہوتی ، البتہ جنت عدن اس باغ کر کہا جاتا ہے جس میں مالک خود بھی رہائش پذیر ہو ، ظاہر ہے کہ ایسے باغ میں پودوں اور درختوں کے علاوہ رہائش کی تمام سہولتیں بھی ہوں گی جن میں بہترین مکان اور اس سے متعلقہ تمام لوازمات کو شامل کیا جاسکتا ہے ، ایسے باغات کے متعلق فرمایا ” مفتحۃ لھم الابواب “۔ متقیوں کے لیے ان باغات کے دروازے کھلے ہوں گے اور وہ ان میں بلاکسی رکاوٹ کے آجا سکیں گے ، بعض فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے جنتیوں کو اپنے ٹھکانے پر پہنچے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی اس دنیا میں تو بعض اوقات گھر پہنچنے میں کوئی دقت بھی پیش آسکتی ہے یا آدمی راستہ بھی بھول سکتا ہے مگر وہاں ایسی بات نہیں ہوگی بلکہ ہر جنتی بغیر کسی راہنمائی اور دقت کے اپنے ٹھکانے پر پہنچ سکے گا ۔ (بہترین خوردونوش) فرمایا ان باغات میں متقی لوگ (آیت) ” متکئین فیھا “۔ تکیہ لگا کر بیٹھیں گے (آیت) ” یدعون فیھا بفاکھۃ کثیرۃ وشراب “۔ وہاں پر طلب کریں گے ، بہت سے پھل اور مشروبات ، سورة الطور میں ہے کہ جنتی جس قسم کا پھل اور گوشت چاہیں گے ان کے سامنے موجود ہوگا (آیت) ” وامددنھم بفاکھۃ ولحم ممایشتھون “۔ (آیت ، 22) مشروبات میں سے شراب طہور کا ذکر قرآن پاک میں کئی جگہ موجود ہے ، مثلا سورة الدھر میں ہے (آیت) ” وسقھم ربھم شرابا طھورا “۔ (آیت 21) اللہ تعالیٰ جتنی لوگوں کو پاک شراب پلائے گا جو کہ نہایت ہی خوشگوار اور خوش ذائقہ ہوگی اور اس میں دنیا کی شراب جیسی گندگی اور نشہ آوری نہیں ہوگی ، گذشتہ سورة الصفت میں بھی گذر چکا ہے کہ جنتی ایک دوسرے کے بالمقابل تختوں پر بیٹھے ہوں گے اور ان میں لطیف شراب کے جام چل رہے ہوں گے جو کہ سفید رنگ میں پر لذت شراب ہوگی (آیت) ” لاغولہ فیھا “۔ (آیت 47) اس میں کوئی سرگردانی نہیں ہوگی بلکہ سرور ہی سرور ہوگا ۔ (باحیا ہم عمر عورتیں) فرمایا خوردونوش کی اشیاء کے علاوہ (آیت) ” وعندھم قصرت الطرف اتراب “۔ ان کے پاس نیچی نگاہیں رکھنے والی ہم عمر عورتیں ہوں گی ، انسانی زندگی کی تکمیل میں مرد کے لیے عورت کا بھی حصہ ہے عورت کے بغیر زندگی سونی سونی اور نامکمل رہتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے مرد وزن کے باہمی تعلق کو اس طرح بیان فرمایا ہے (آیت) ” ھن لباس لکم وانتم لباس لھن “۔ (البقرہ ، 187) عورتیں مردوں کا لباس ہیں اور مرد عورتوں کا لباس ہیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ جنت میں عورتیں بھی عطا کرے گا جن کو (آیت) ” ازواج مطھرۃ “۔ (بقرہ ، 25) یعنی پاک عورتوں سے تعبیر کیا گیا ہے ان کے اجساء اور اخلاق مکمل طور پر پاک ہوں گے اور نیچی نگاہیں رکھنے والی اس لحاظ سے کہ وہ اپنے خاوندوں کے علاوہ کسی دوسری طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی ، اس دنیا میں تو عورتیں غیر مردوں کے ساتھ گپیں مارتی ہیں کلبوں اور سینما گھروں میں جاتی ہیں پروگرام چلاتی ہیں اور گانے گا کر غیر مردوں کا دل بہلاتی ہیں مگر وہاں ایسی بات نہیں ہوگی ، جنتی حوروں کے اپنے خاوند اس قدر حسین و جمیل ہوں گے کہ ان کی نگاہ کسی طرح اٹھے گی نہیں اور یہی چیز ہر مرد اور عورت کے حق میں عفت و پاکدامنی کی علامت ہے ۔ مرد وزن کا ہم عمر ہونا بھی ایک نعمت ہے عمر کے تفاوت کی وجہ سے کئی ایک پیچیدگیاں اور پریشانیاں لاحق ہوجاتی ہیں مگر جنت میں ایسا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا ، کیونکہ جنتی مرد اور جنتی عورتیں ہم عمر ہوں گے ۔ (باافراد روزی) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ھذا ماتوعدون لیوم الحسبا “۔ یہ وہ چیز ہے جس کا حساب کے دن (قیامت) کے لیے تم سے وعدہ کیا گیا تھا فرمایا (آیت) ” ان ھذا لرزقنا “۔ یہ ہماری طرف سے روزی ہے (آیت) ” مالہ من نفاد “۔ بیشک یہ کم نہیں ہوگی ، دنیا میں تو اکثر چیزوں کی کمی واقع ہوجاتی ہے فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں ، قحط سالی پیدا ہوجاتی ہے کارخانوں کی پیداوار بند ہوجاتی ہے اور لوگوں کو مشکلات پیش آتی ہیں مگر جنت میں کسی چیز کی کوئی کمی واقع نہیں ہوگی ، جنت میں ہر چیز باافراط میسر ہوگی ۔ (سرکشوں کا بدترین ٹھکانا) فرمایا ” ھذا “ یہ بات تو ہوگئی ، تم نے جنتیوں کے انعامات کا تذکرہ سن لیا اب ذرا نافرمانوں کا انجام بھی ملاحظہ کرلیں ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وان لطغین لشرماب “۔ اور بیشک سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہوگا ، جن لوگوں کی فکر اعمال اور اخلاق خراب ہوں گے اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت اور دین کی حدود کو توڑا ہوگا ، کفر ، شرک اور ظلم وتعدی پر اصرار کرتے ہونگے بدعات کو رواج دیتے ہوں گے ، غرور وتکبر میں مبتلا ہوں گے اور لوگوں کی حق تلفی کے مرتکب رہے ہوں گے ان کا ٹھکانا بہت برا ہوگا اور وہ کون سا ہے ؟ (آیت) ” جھنم “ وہ ٹھکانا جہنم ہے ” یصلونھا “ جس میں داخل ہوں گے (آیت) ” فبئس المھاد “۔ پس یہ آرام کرنے کے اعتبار سے بہت ہی بری جگہ ہوگی یعنی وہاں کوئی آرام میسر نہیں آئے گا۔ (بدترین خوردونوش) فرمایا ” ھذا “ یہی عذاب ہے (آیت) ” فلیذوقوہ حمیم وغساق “۔ پس چکھیں اس کو کھولتا ہوا پانی اور بدبودار پیپ ہے ” حمیم “ کھولتے ہوئے گرم پانی کو کہتے ہیں جو درزخیوں کو پینے کے لیے دیا جائے گا سورة محمد میں آتا ہے (آیت) ” وسقوا ماء حمیما فقطع امعآء ھم “۔ (آیت ، 15) جب وہ اتنا گرم پانی پائیں گے تو ان کے پیٹ کی آنتیں کٹ کر نیچے گر پڑیں گی ، اس پانی کا ایک ہی گھونٹ جسم کے پورے اندرونی نظام کو درہم برہم کرنے کے لیے کافی ہوگا ، یہاں پر دوسری چیز غساق کا ذکر ہے غساق زخموں سے بہنے والی پیپ کو کہا جاتا ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر غساق کا ایک ڈول دینا میں پھینک دیا جائے تو تمام انسانوں اور جانوروں کی زندگی اس کی بو کی وجہ سے تلخ ہوجائے ، امام ابن جریر (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ حمیم اور غساق دو چیزیں ہیں حمیم سے مراد سخت ترین گرم پانی اور غساق کا مطلب انتہائی ٹھنڈا یخ بستہ پانی ہے جس کا دوسرا نام زمہریر بھی ہے جس طرح سخت گرم پانی ناقابل استعمال ہوتا ہے اسی طرح سخت منجمند پانی بھی مفید نہیں ہوتا ، غرضیکہ مفسرین نے غساق کے یہ دونوں معنی بیان کیے ہیں یعنی پیپ اور انتہائی ٹھنڈا پانی ان دو چیزوں کے علاوہ فرمایا (آیت) ” وانحرمن شکلہ ازواج “۔ اور سزا کے طور پر اس قسم کی طرح طرح کی مزید چیزیں بھی ہوں گی جو جہنمیوں کے لیے وبال جان بن جائیں گی اور وہ درد ناک اذیت میں مبتلا ہوں گے ۔ (دوزخیوں کی جماعت) اب آگے اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کی دو جماعتوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک جماعت تابعین کی ہوگی اور دوسری متبوعین کی دنیا میں باطل طریقے پر پیچھے لگنے والے اور پیچھے لگانے والے سب جہنم میں داخل ہوں گے اور پھر وہ ایک دوسرے پر الزام تراشی بھی کریں گے جس کی وجہ سے ان کو جہنم کا منہ دیکھنا پڑے گا ارشاد ہوا ہے (آیت) ” ھذا افوج مقتحم معکم “۔ یہ ایک فوج گروہ یا جماعت ہے جو تمہارے ساتھ گھستی چلی آرہی ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس جماعت سے جہنمیوں کے دو طبقات مراد ہیں جو یا تو دنیا میں باطل طور پر لوگوں سے اپنی اتباع کراتے رہے یا وہ ایسے لوگوں کی اتباع کرتے رہے ان سب کو جہنم میں داخل کرنے سے پہلے جہنم کے کنارے پر کھڑا کیا جائے گا اور پھر یہ آپس میں ایک دوسرے کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنائیں گے گویا اس فوج سے مراد تابع اور متبوعین کا گروہ ہے جو جہنم کے کنارے پر جمع ہوگا ، پھر آواز آئے گی (آیت) ” لامرحبابھم “۔ ان کو خوش آمدید نہ کہو یعنی ان کی آؤبھگت نہ کرو کیونکر (آیت) ” انھم صالو النار “۔ یہ تو جہنم میں داخل ہونے والے ہیں یہ بڑے بڑے ائمۃ الکفر کہیں گے جو دنیا میں اپنی بات منواتے رہے اور کمزور لوگوں کو اپنے پیچھے لگنے پر مجبور کرتے رہے ، پھر کمزور اور تابع لوگ جواب دیں گے (آیت) ” قالوا بل انتم لا مرحبا بکم “۔ بلکہ تمہیں خوش آمدید نہ ہو (آیت) ” انتم قدمتموہ لنا “۔ یہ تمہیں لوگ ہو جنہوں نے ہمارے لیے اس چیز کو آگے بھیجا ہے تم نے ہی یہ مصیبت ہمارے لیے کھڑی کی ہے ہم تمہارے پیچھے لگ کر گمراہ ہونے اور پھر جہنم کے دروازے تک پہنچ گئے ہیں (آیت) ” فبئس القرار “۔ یہ تو قرار کرنے کی بہت ہی بری جگہ ہے پھر وہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے (آیت) ” قالوا ربنا من قدم لنا ھذا “۔ پروردگار ! جس نے ہمارے لیے یہ مصیبت آگے بھیجی ہے یعنی جو لوگ ہمارے لیے عذاب کا باعث بنے ہیں (آیت) ” فزدہ عذابا ضعفافی النار “۔ ایسے شخص کو دوزخ میں دگنی سزا دے ، انہوں نے اپنے ساتھ ہمارا بیڑا بھی غرق کردیا ، قرآن میں دوسری جگہ موجود ہے کہ متبوعین کہیں گے کہ تم نے خود ہی گمراہی کا راستہ اختیار کیا تھا ، تم اپنے مقصد و ارادہ کے ساتھ اس راستہ پر چلتے رہے ، ہم نے تمہیں مجبور تو نہیں کیا تھا کہ ضرور ہی ہمارے پیچھے چلو ، اب ہم پر کیسے الزام دھرتے ہو ، دوزخیوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی بجائے خود ان کے لیے ایک ذہنی عذاب ہوگا ۔ (اہل ایمان کی تلاش) اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل دوزخ کی ایک اور حیرانگی کا ذکر کیا ہے جہنمی لوگ جہنم میں پہنچ کر اپنے گردوپیش کا جائز ہ لیں گے ، اور پھر (آیت) ” وقالوا ما لنا لانری رجالا کنا نعدھم من الاشرار “۔ کہیں گے کہ ہم یہاں ان مردوں کو نہیں دیکھ رہے ہیں جنہیں ہم شریر خیال کرتے تھے (آیت) ” اتخذنھم سخریا “۔ دنیا میں ہم ان سے ٹھٹا کیا کرتے تھے ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے یہ اہل ایمان کی بات ہو رہی ہے دوزخ والے ان کو یاد کریں گے اور کہیں گے کہ ہم تو یہاں پہنچ گئے ہیں مگر وہ کہاں ہیں جنہیں ہم طرح طرح کی اذتییں پہنچایا کرتے تھے ، پھر خود ہی کہیں گے کیا وہ لوگ یہاں آئے ہی نہیں (آیت) ” ام زاغت عنھم الابصار “ یا ہماری آنکھیں چوک رہی ہیں اور ان کا تلاش کرنے سے عاجز ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ایمان والے تو اللہ کی رحمت کے مقام میں ہوں گے ، وہاں دوزخ میں کہاں نظر آئیں گے ۔ ؟ فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” ان ذلک لحق تخاصم اھل النار “ اہل دوزخ کا آپس میں اس قسم کا جھگڑا تنازعہ اور ایک دوسرے پر الزام تراشی بالکل ایسی ہی ہوگی یہ آپس میں جھگڑا کریں گے اور پھر دوسروں کے متعلق بھی گفتگو کریں گے کہ وہ کہاں ہیں ؟ یہ صورت حال ان کی پریشانی میں مزید اضافہ کا باعث بنے گی ۔
Top