Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 8
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ
ءَاُنْزِلَ : کیا نازل کیا گیا عَلَيْهِ : اس پر الذِّكْرُ : ذکر (کلام) مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ : ہم میں سے بَلْ : بلکہ هُمْ : وہ فِيْ شَكٍّ : شک میں مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ : میری نصیحت سے بَلْ : بلکہ لَّمَّا : نہیں يَذُوْقُوْا : چکھا انہوں نے عَذَابِ : میرا عذاب
کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اتری ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا
8۔ 15۔ قرآن شریف کے جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین مکہ ایک یہ بات بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ یا عمرو بن مسعود ایسے مال دار شخص پر نازل ہوتا۔ ان مال دار شخصوں کو چھوڑ کر محمد ؓ جیسے تنگ دست پر کلام الٰہی کا اترنا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ جب تک ان لوگوں کی ایسی باتوں کی سزا کے طور پر کوئی آفت ان پر نہیں آتی۔ اس وقت تک یہ لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے میں ایسی ہی شک و شبہ کی باتیں کرتے رہیں گے۔ ہاں جب کوئی آفت آسمانی ان پر آجاوے تو ان کا یہ سب شک و شبہ جاتا رہے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی روایت گزر چکی ہے کہ بدر کی لڑائی میں جب مشرکین مکہ کے بڑے بڑے منکر قرآن مارے گئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا۔ کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پا لیا۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سرکشوں کا شک و شبہ ایسا بےوقت رفع ہوا کہ اس سے ان لوگوں نے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی رحمت کے خزانے کچھ ان لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہیں کہ آسمان پر چڑھ کر یہ لوگ جس کو چاہیں نبوت دے دیں۔ جس طرح ان سے پہلے لوگ قوم نوح سے لے کر فرعون تک ایسی سرکشی کی باتوں کے وبال میں پکڑے گئے۔ ایک دن یہی حال ان کا ہونے والا ہے۔ اور پھر دوسرے صور کی آواز سے ان کو دوبارہ زندہ کیا جا کر ان کی بداعمالی کی پوری سزا ان کو دی جاوے۔ ما لھا من فراق اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح نفیری بجانے والے بیچ میں دم لے کر نفیری بجاتے ہیں۔ صور کے پھونکنے میں اتنی مہلت بھی نہ ہوگی۔ بلکہ ایک دم میں صور پھونک دیا جاوے گا۔ اور فوراً یہ منکرین حشر دوبارہ زندہ کئے جا کر حساب و کتاب کے لئے حاضر کردیئے جائیں گے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کی حدیث بدر کی لڑائی کے قصہ میں گزر چکی ہے کہ اس لڑائی میں بڑے بڑے سردار مشرکین مکہ کے جو مارے گئے ان کے نام پہلے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اور اللہ کے رسول نے صحابہ کو بتلا دیئے تھے اس روایت میں انس 3 ؎ بن مالک قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے جتنے لوگوں کے نام اور جس جس جگہ پر ان کی لاشوں کا پڑا رہنا ایک رات پہلے سے فرمایا تھا۔ صبح کو لڑائی کے ختم ہوجانے کے بعد وہی حال ہم لوگوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ ان آیتوں میں جو ذکر ہے کہ قوم لوح سے لے کر فرعون تک جتھے جس طرح برباد اور تباہ ہوچکے ان مشرکین مکہ کا جتھا بھی ایک دن اسی طرح برباد اور تباہ ہوجاوے گا حضرت عمر ؓ اور انس بن مالک کی یہ روایتیں۔ گویا اس کی تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ ان آیتوں کے وعدہ کے ظہور کا وقت جب آگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایک رات پہلے اسے اپنے رسول کو اور اللہ کے رسول نے معجزہ کے طور پر صحابہ کو جتلا دیا اور صبح کو وہی حال صحابہ نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ متعبر سند کی عقبہ ؓ بن عامر 4 ؎ کی حدیث ایک جگہ سے گزر چکی ہے کہ پہلے صور کی آواز سے لوگ ایسے جلی ہلاک ہوجاویں گے۔ کہ جس شخص کے ہاتھ میں نوالہ ہوگا۔ وہ منہ تک نہ جاسکے گا کہ وہ شخص ہلاک ہوجائے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے۔ کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب جسم تیار ہوجا ویں گے اور پھر دوسرے صور کی آواز سے ان جسموں میں روحیں پھونک دی جاویں گی۔ ان آیتوں میں صور کا جو ذکر ہے ان حدیثوں سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ (1 ؎ تفسیر ہذا ص 22) (3 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب غزوہ بدر ص 102 ج 2) (4 ؎ الترغیب والترھیب فصل فی النفخ فی الصور الخ۔ ص 727 ج 4 صحیح البخاری ج 2 ص 963 باب بعد باب قول النبی ﷺ بعثت نا والساعۃ کھاتین۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب مابین النفختین ص 407 ج 2)
Top