Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 172

  1. لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا﴿172﴾

    1. لَنْ يَّسْتَنْكِفَہرگز عار نہیں
    2. الْمَسِيْحُمسیح
    3. اَنْکہ
    4. يَّكُوْنَہو
    5. عَبْدًابندہ
    6. لِّلّٰهِاللہ کا
    7. وَلَااور نہ
    8. الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
    9. الْمُقَرَّبُوْنَمقرب (جمع)
    10. وَمَنْاور جو
    11. يَّسْتَنْكِفْعار کرے
    12. عَنْسے
    13. عِبَادَتِهٖاس کی عبادت
    14. وَيَسْتَكْبِرْاور تکبر کرے
    15. فَسَيَحْشُرُهُمْتو عنقریب انہیں جمع کرے گا
    16. اِلَيْهِاپنے پاس
    17. جَمِيْعًاسب
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور مسیح کر ہرگز اللہ کا بندہ بننے سے عار نہ ہوگا اور نہ مقرب فرشتوں کو عار ہوگا اور جو اللہ کی بندی سے عار کرے گا اور تکبر کرے گا تو اللہ ان سب کو اپنے پاس اکٹھا کرے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
172۔ 173:۔ لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَلَا الْمَلٰۗىِٕكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ ۭوَمَنْ يَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ اِلَيْهِ جَمِيْعًا۔ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَيَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ ۚ وَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَاسْتَكْبَرُوْا فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِــيْمًا ۥۙ وَّلَا يَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۔ " استنکاف " کے معنی ہیں کسی چیز سے غیرت، حمیت، خودداری یا استکبار کے سبب سے اعراض کرنا۔ اس آیت کا صحیح زور سمجھنے کے لیے لاتغلوا فی دینکم والی آیت نگاہ میں رکھیے۔ غلو کے فتنے میں مبتلا ہونے کا بڑا سبب درحقیقت استکبار ہے۔ جو لوگ کسی چیز یا کسی شخص کو مان لیتے ہیں، وہ اگر حدود سے واقف یا ان کو ملحوظ رکھنے والے نہ ہوں تو ان کی خواہش اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس چیز یا شخص کو سب چیزوں اور تمام اشخاص سے بڑھ کر ثابت کر دکھائیں۔ پھر وہ اپنے استکبار کے اعتبار سے اس کو بڑھانا شروع کردیتے ہیں یہاں تک کہ اس کو بڑھاتے بڑھاتے اس حد تک پہنچا دیتے ہیں جہاں پہنچ کر استکبار کو تسلی ہوجاتی ہے کہ اب برتری کے میدان میں کوئی ان کا حریف نہیں رہا اور یہاں کوئی ان کو چیلنج نہیں کرسکتا۔ عیسائیوں کو یہی فتنہ پیش آیا۔ انہوں نے جب حضرت عیسیٰ کو مانا تو صرف اتنے ہی پر قانع نہ رہ سکے کہ ان کو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول مانیں۔ انہوں نے خیال کیا کہ اللہ کے بندے اور رسول تو بہت سے ہیں اگر مسیح بھی اللہ کے بندے اور رسول ہی ہیں تو پھر ان کا اور ان کے ماننے والوں کا امتیاز کیا ہوا ؟ اس محرک نے، جو کھلا ہوا استکبار ہے، انہیں آمادہ کیا کہ وہ کھینچ تان کر ان کو شریک خدا ثابت کریں۔ قرآن نے عیسائیوں کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے کہ خدا کی بندگی کو تو مسیح نے نہ عار سمجھا، نہ سمجھیں گے، نہ روح القدس اور دوسرے مقرب فرشتے اس کو عار سمجھیں گے۔ وہ اپنے درجے اور مرتبے کو خوب جانتے ہیں۔ البتہ جن لوگوں نے خدا کی بندگی کو عار سمجھا اور اپنے استکبار کے نشے میں یہ سارا فساد برپا کیا ہے ایسے سارے لوگوں کو خدا اپنے حضور میں جمع کرے گا۔ اس دن ان لوگوں کو جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کی ہوگی اللہ پورا پورا اجر بھی دے گا اور ان کو اپنے فضل سے بھی نوازے گا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے خدا کی بندگی کو عار سمجھا اور غرور میں آکر بات کا بتنگڑ بنایا تو اللہ ان کو دردناک عذاب دے گا اور ان کا کوئی کارساز و مددگار نہ ہوگا جو ان کی طرف سے اللہ کے مقابل میں کھڑا ہوسکے۔