Tafseer-al-Kitaab - Saad : 42
اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ
اُرْكُضْ : (زمین پر) مار بِرِجْلِكَ ۚ : اپنا پاؤں ھٰذَا : یہ مُغْتَسَلٌۢ : غسل کے لیے بَارِدٌ : ٹھنڈا وَّشَرَابٌ : اور پینے کے لیے
(ہم نے فرمایا کہ) اپنا پاؤں (زمین پر) مارو (چنانچہ اس نے پاؤں مارا تو ایک چشمہ نکل آیا۔ ہم نے ایوب سے کہا کہ) یہ ہے ٹھنڈا (پانی تمہارے) نہانے اور پینے کے لئے۔
[18] روایات میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) نے بیماری کی حالت میں ناراض ہو کر بیوی کو مارنے کی قسم کھائی تھی۔ اور اس قسم ہی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں تجھے اتنے کوڑے ماروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت عطا فرمائی تو انہوں نے اپنی قسم پوری کرنے کا ارادہ کیا مگر کیونکہ ان کی بیوی نے بیماری کے دوران ان کی بہت خدمت کی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے سزا میں تخفیف فرمائی اور ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ایک جھاڑو لو جس میں اتنے ہی تنکے ہوں جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی اور اس جھاڑو سے بس ایک ضرب لگا دو تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے اور تمہاری بیوی کو تکلیف بھی نہ پہنچے۔
Top