Taiseer-ul-Quran - Saad : 50
جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ
جَنّٰتِ : باغات عَدْنٍ : ہمیشہ رہنے کے مُّفَتَّحَةً : کھلے ہوئے لَّهُمُ : ان کے لیے الْاَبْوَابُ : دروازے
(یعنی) ہمیشہ رہنے والے باغ جن کے دروازے 56 ان کے لئے کھلے ہوں گے
56 جنت کے کھلے ہوئے دروازے :۔ یعنی اہل جنت بلاروک ٹوک اپنے اپنے گھروں میں آجاسکیں گے اور دروازوں کے کھلے ہونے یا رہنے کی تین صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ دروازے ہر وقت کھلے رہیں دوسری یہ کہ دروازے بند ہوں مگر جب اہل جنت گزرنا چاہیں تو وہ از خود کھل جائیں۔ اور تیسری یہ کہ جب اہل جنت گزرنا چاہیں تو فرشتے فوراً دروازے کھول دیں۔ سورة الزمر کی آیت نمبر 73 سے اسی تیسری صورت کی تائید ہوتی ہے۔
Top