Madarik-ut-Tanzil - Saad : 50
جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ
جَنّٰتِ : باغات عَدْنٍ : ہمیشہ رہنے کے مُّفَتَّحَةً : کھلے ہوئے لَّهُمُ : ان کے لیے الْاَبْوَابُ : دروازے
ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے
50: جَنّٰتِ عَدْنٍ (ہمیشہ رہنے کے باغات ) نحو : یہ حسن مٰاب سے بدل ہے۔ مُّفَتَّحَۃً (اس حال میں کہ کھلے ہونگے) : یہ جنات سے حال ہے کیونکہ وہ عدن کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے معرفہ ہے۔ عدنؔ علم ہے اور اس کا عامل فعل کا وہ معنی ہے جو للمتقین میں عمل کر رہا ہے۔ لَّھُمُ الْاَبْوَابُ (ان کے لئے دروازے) فائدہ : ابواب مفتحۃ کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور ضمیرعائد محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے مفتحۃ لہم الابواب منھا۔ ضمیر اس میں اسی طرح حذف کی جیسا اس ارشاد میں حذف کی ہے فان الجحیمھی الماوٰی ] النازعات : 39 [ ای لھم۔ نمبر 2۔ یا تقدیر کلام اس طرح مانیں ابوابہا مگر اول وجہ عمدہ ہے۔ نمبر 3۔ یا مفتحۃ کی ضمیر سے بدل ہے اور وہ ضمیر جنات ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ مفتحۃ ہی الابواب اور جنات کا بدل الاشتمال ہے۔
Top