تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 38. Saad · Ayah 50
Tafseerجَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ﴿50﴾
- جَنّٰتِباغات
- عَدْنٍہمیشہ رہنے کے
- مُّفَتَّحَةًکھلے ہوئے
- لَّهُمُان کے لیے
- الْاَبْوَابُدروازے
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہمیشہ رہنے والی جنّتیں جن کے دروازے اُن کے لیے کھُلے ہوں گے۔ 52
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة صٓ 52
اصل الفاظ ہیں مُفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ۔ اس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان جنتوں میں وہ بےروک ٹوک پھریں گے، کہیں ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ دوسرے یہ کہ جنت کے دروازے کھولنے کے لیے کسی کوشش کی حاجت نہ ہوگی بلکہ وہ مجرد ان کی خواہش پر خود بخود کھل جائیں گے۔ تیسرے یہ کہ جنت کے انتظام پر جو فرشتے مقرر ہوں گے وہ اہل جنت کو دیکھتے ہی ان کے لیے دروازے کھول دیں گے۔ یہ تیسرا مضمون قرآن مجید میں ایک اور مقام پر زیادہ صاف الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے حَتّیٰ اِذَا جَآءُوْھَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُھَا وَقَالَ لَھُمْ خَزَنَتُھَا سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْھَا خٰلِدِیْنَ۔ " یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جاچکے ہوں گے تو جنت کے منتظمین ان سے کہیں گے کہ سلام علیکم، خوش آمدید، ہمیشہ کے لیے اس میں داخل ہو جایئے "۔ (الزمر۔ 73)۔