Ruh-ul-Quran - Saad : 50
جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ
جَنّٰتِ : باغات عَدْنٍ : ہمیشہ رہنے کے مُّفَتَّحَةً : کھلے ہوئے لَّهُمُ : ان کے لیے الْاَبْوَابُ : دروازے
ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے کھولے ہوئے ہوں گے
جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ ۔ مُتَّـکِئِیْنَ فِیْھَا یَدْعُوْنَ فِیْھَا بِفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ وَّشَرَابٍ ۔ وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ۔ ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ ۔ اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَالَـہٗ مِنْ نَّفَادٍ ۔ (صٓ: 50 تا 54) (ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے کھولے ہوئے ہوں گے۔ ان میں وہ تکیے لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے، اور بہت سے میوے اور مشروبات طلب کرتے ہوں گے۔ اور ان کے پاس شرمیلی ہم سِن حوریں ہوں گی۔ یہ ہیں وہ چیزیں جنھیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ) حسن مآب کی وضاحت گزشتہ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے بہترین ٹھکانا ہے۔ پیش نظر آیت میں اس ٹھکانے کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔ وہ ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں جنھیں قرآن کریم جَنَّات سے تعبیر کرتا ہے۔ ان کی ممتاز صفت یہ ہے کہ وہ دنیا کے باغات کی طرح مرجھانے اور فنا ہونے والے نہیں ہوں گے، انھیں اللہ تعالیٰ ابدیت عطا فرمائے گا۔ ان باغات میں متقین کی عزت افزائی کا عالم یہ ہوگا کہ ان کے پہنچنے سے پہلے ان باغات کو آراستہ کیا جائے گا۔ استقبال کرنے والے مقرر کردیئے جائیں گے۔ جس طرح کسی معزز مہمان کی آمد پر پہلے ہی سے دروازے کھول کر راستوں پر خوش آمدید کہنے والے کھڑے کردیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان کے لیے بھی دروازے پہلے سے ہی کھول دیئے گئے ہوں گے۔ استقبال کرنے والے نہایت مسرت و ابتہاج کے ساتھ انھیں خوش آمدید کہیں گے۔ جنت میں پہنچنے سے پہلے ان کی مسندیں آراستہ ہوچکی ہوں گی۔ اور سامانِ ضیافت پیش کرنے کے لیے نوکر چاکر مستعد کھڑے ہوں گے۔ اہل جنت جب وہاں غیرمعمولی اور حیران کن پھل اور مشروبات دیکھیں گے تو ان کی اشتہا اور طلب بڑھے گی، تو وہ نہایت بےتکلفی سے ہر قسم کے میوے اور مختلف قسم کے مشروبات خدام سے طلب کریں گے۔ مجلسی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی پرائیویٹ اور عائلی زندگی بھی خوشیوں سے معمور ہوگی۔ شرم و حیاء کے پیکر، باغیرت اور ایک شریف آدمی کے لیے سب سے زیادہ اطمینان بخش اور مسرت انگیز کوئی چیز اگر ہوسکتی ہے تو وہ باحیاء اور شرمیلی نازنین ہے جسے قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور ان خوشیوں کی تکمیل کے لیے مزید یہ فرمایا گیا کہ وہ باحیاء نازنینیں اپنے شوہروں کی ہم سِن ہوں گی۔ عمر کی یکسانی، جذبات کی یکسانی کو پیدا کرتی ہے۔ اور جذبات کی یکسانی مشترکہ خوشیوں کی ضمانت دیتی ہے۔ اور آخر میں فرمایا کہ یہ وہ نعمتیں ہیں اصحابِ ایمان سے جن کا دنیا میں بار بار وعدہ کیا گیا تھا۔ اور آج مزید اطمینان اور خوشی کے لیے یہ بھی یاددلایا جائے گا کہ یہ ہمارا وہ رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا جبکہ دنیا میں کسی خوشی کو قرار نہ تھا اور کسی نعمت کو دوام نہ تھا۔ لیکن یہاں نہ صرف ہر نعمت ابدیت لیے ہوئے ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جائے گا۔
Top