Tafseer-e-Saadi - Saad : 50
جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ
جَنّٰتِ : باغات عَدْنٍ : ہمیشہ رہنے کے مُّفَتَّحَةً : کھلے ہوئے لَّهُمُ : ان کے لیے الْاَبْوَابُ : دروازے
ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے
آیت 50 ( جنت عدن) یعنی ہمیشہ سرسبز و شاداب رہنے والے باغات ‘ جن کے کمال اور جن کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا۔ (مفتحۃ لھم الابواب) یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے ‘ ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہوگی ‘ بلکہ انکی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن وامان ہوگا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہوگی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔ (متکئین فیھا) وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے (یدعون فیھا) یعنی وہ اپنے خدام کو حکم دیں گے (بفا کھۃ کثیرۃ وشراب) کہ وہ ان کی خدمت میں مکثرت پھل اور مشروبات پیش کریں ‘ جن کو ان کے نفس پسند کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہاں ان کو کامل نعمت ‘ کامل راحت و طمانیت اور کامل لذت حاصل ہوگی۔ (وعندھم) ” ان کے پاس “ گوری چٹی موٹی آنکھوں والی بیویاں ہوں گی۔ (قصرت الطرف) یعنی دونوں میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کیحسن و جمال اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے باعث نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے۔ وہ دونوں میاں بیوی کسی اور طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گے ‘ وہ اپے ساتھی کو بدلنا چاہیں گے نہ اس کے عوض کچھ اور چاہیں گے۔ (اتراب) یعنی وہ میاں بیوی ہم عمر ہوں گے۔ وہ جوانی کے بہترین دور اور انتہائی لذت انگیز عمر میں ہوں گے۔ (ھذا ما توعدون) ”(اے تقوٰی شعار لوگو ! ) یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا “ (لیوم الحساب) ” حساب کے دن کے لیے۔ یہ تمہارے نیک اعمال کی جزا ہے۔ (ان ھذا لرزقنا) ” یقیناً یہ ہمارا رزق ہے۔ جو ہم نے اہل جنت کو عطا کیا ہے۔ (مالہ من نفاد) یہ رزق کبھی منقطع نہ ہوگا بلکہ وہ دائمی ہوگا اور ہر آن اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ سب کچھ رب کریم کے لیے کوئی بڑا کام نہیں جو رؤف و رحیم ‘ محسن و جو او ’ ؓ ‘ واسع و غنی ‘ قابل تعریف ‘ لطف عظیم کا حامل ‘ نہایت مہربان بادشاہ ‘ با اختیار ‘ جلیل القدر ‘ جمیل الشان ‘ احسان کرنے والا ‘ بےپناہ فضل اور متواتر کرم کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہی جس کی نعمتوں کی شمار کیا جاسکتا ہے نہ اس کے کسی احسان کا احاطہ کیا جاسکتا ہے۔
Top