Anwar-ul-Bayan - Saad : 50
جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ
جَنّٰتِ : باغات عَدْنٍ : ہمیشہ رہنے کے مُّفَتَّحَةً : کھلے ہوئے لَّهُمُ : ان کے لیے الْاَبْوَابُ : دروازے
ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے
(38:50) جنت عدن : عدن کو بعض علماء علم قرار دیتے ہیں۔ اور اس کو جنت میں ایک خاص مقامکا نام دیتے ہیں۔ اور دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں۔ جنت عدن ن التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب (19:61) کیونکہ یہاں معرفہ کو اس کی صفت لایا گیا ہے۔ اور بعض دوسرے اس کو جنت کی صفت بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ عدن کے اصل معنی استقرار و ثبات کے ہیں۔ محاورہ ہے عدن بالمکان اس نے اس جگہ قیام کیا ۔ اور عدن سے مراد دائمی طور پر رہنا بسنا ہے۔ لہٰذا جنت عدن ہمیشہ رہنے کے باغات۔ پہلی صورت میں عدن کے باغات۔ منصوب حسن ماب کا عطف بیان ہونے کی وجہ سے ہے۔ مفتحۃ۔ اسم مفعول ۔ واحد مؤنث کھولے گئے ۔ کھلے ہوئے ۔ تفتیح (تفعیل) سے فتح مادہ۔ الابواب مفتحۃ کا نائب فاعل ہے۔ مفتحۃ لہم الابواب ای مفتحۃ لہم ابوابھا (ای ابواب الجنۃ) جملہ حالیہ ہے درآں حالیکہ جنت عدن کے دروازے ان (متقین) کے لئے کھلے ہوئے ہوں گے۔
Top