41. Fussilatفصلت

Explained in detail · Meccan · 54 ayahs · 6 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. حٰمٓۚ﴿1﴾

    حم
  2. تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ﴿2﴾

    یہ کلام اس ذات کی طرف سے نازل کیا جارہا ہے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے
  3. كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ﴿3﴾

    عربی قرآن کی شکل میں یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں علم حاصل کرنے والوں کے لیے تفصیل سے بیان کی گئی ہیں
  4. بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ﴿4﴾

    یہ قرآن خوشخبری دینے والا بھی ہے، اور خبردار کرنے والا بھی پھر بھی ان میں سے اکثر لوگوں نے منہ موڑ رکھا ہے جس کے نتیجے میں وہ سنتے نہیں ہیں
  5. وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ﴿5﴾

    اور (پیغمبر ﷺ سے) کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو اس کے لیے ہمارے دل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں ہمارے کان بہرے ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ لہذا تم اپنا کام کرتے رہو۔ ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔
  6. قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ﴿6﴾

    (اے پیغمبر) کہہ دو کہ میں تو تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ (البتہ) مجھ پر یہ وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے۔ لہذا تم اپنا رخ سیدھا اسی کی طرف رکھو، اور اسی سے مغفرت مانگو۔ اور بڑی تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے۔
  7. الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿7﴾

    جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ان کا حال یہ ہے کہ آخرت کے وہ بالکل ہی منکر ہیں
  8. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ع﴿8﴾

    (البتہ) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کے لیے بیشک ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔
  9. قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ﴿9﴾

    کہہ دو کہ : کیا تم واقعی اس ذات کے ساتھ کفر کا معاملہ کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو ؟ وہ ذات تو سارے جہانوں کی پرورش کرنے والی ہے
  10. وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ﴿10﴾

    اور اس نے زمین میں جمے ہوئے پہاڑ پیدا کیے جو اس کے اوپر ابھرے ہوئے ہیں اور اس میں برکت ڈال دی اور اس میں توازن کے ساتھ اس کی غذائیں پیدا کیں۔ سب کچھ چار دن میں تمام سوال کرنے والوں کے لیے برابر
  11. ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ﴿11﴾

    پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ اس وقت دھویں کی شکل میں تھا اور اس سے اور زمین سے کہا : چلے آؤ چاہے خوشی سے یا زبردستی۔ دونوں نے کہا : ہم خوشی خوشی آتے ہیں
  12. فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ﴿12﴾

    چنانچہ اس نے دو دن میں اپنے فیصلے کے تحت ان کے سات آسمان بنا دئیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب حکم بھیج دیا اور ہم نے اس قریب والے آسمان کو چراغوں سے سجایا اور اسے خوب محفوط کردیا۔ یہ اس ذات کی نپی تلی منصوبہ بندی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کا علم بھی مکمل
  13. فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ﴿13﴾

    پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو کہہ دو کہ میں تمہیں اس کڑکے سے خبر دار کردیا ہے جیسا کڑکا عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا
  14. اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ﴿14﴾

    یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کے پاس پیغمبر (کبھی) ان کے آگے سے اور (کبھی) ان کے پیچھے سے یہ پیغام لے کر آئے کہ اللہ کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ : اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے بھیجتا۔ لہذا جس بات کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے۔ ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
  15. فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ﴿15﴾

    پھر عاد کا قصہ تو یہ ہوا کہ انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کا رویہ اختیار کیا، اور کہا کہ : کون ہے جو طاقت میں ہم سے زیادہ ہو۔ بھلا کیا ان کو یہ نہیں سوجھا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ طاقت میں ان سے کہیں زیادہ ہے اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے
  16. فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ﴿16﴾

    چنانچہ ہم نے کچھ منحوس دنوں میں ان پر آندھی کی شکل میں ہوا بھیجی تاکہ انہیں دنیوی زندگی میں رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ رسوا کرنے والا ہے۔ اور ان کو کوئی مدد میسر نہیں آئے گی۔
  17. وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ﴿17﴾

    رہے ثمود، تو ہم نے انہیں سیدھا راستہ دکھایا تھا۔ لیکن انہوں نے سیدھا راستہ اختیار کرنے کے مقابلے میں اندھا رہنے کو زیادہ پسند کیا، چنانچہ انہوں نے جو کمائی کر رکھی تھی، اس کی وجہ سے ان کو ایسے عذاب کے کڑ کے نے آپکڑا جو سراپا ذلت تھا
  18. وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ع﴿18﴾

    اور جو لوگ ایمان لے آئے تھے اور تقویٰ اختیار کیے ہوئے تھے ان کو ہم نے نجات دے دی
  19. وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ﴿19﴾

    اور اس دن کا دھیان رکھو جب اللہ کے دشمنوں کو جمع کر کے آگ کی طرف لے جایا جائے گا، چنانچہ انہیں ٹولیوں میں بانٹ دیا جائے گا۔
  20. حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿20﴾

    یہاں تک کہ جب وہ اس (آگ) کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف گواہی دیں گی کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں
  21. وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿21﴾

    وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی۔ وہ کہیں گی کہ ہمیں اسی ذات نے بولنے کی طاقت دے دی ہے جس نے ہر چیز کو گویائی عطا فرمائی ہے۔ اور وہی ہے جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور اسی کی طرف تمہیں واپس لے جایا جا رہا ہے۔
  22. وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿22﴾

    اور تم (گناہ کرتے وقت) اس بات سے تو چھپ ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں لیکن تمہارا گمان یہ تھا کہ اللہ کو تمہارے بہت سے اعمال کا علم نہیں ہے
  23. وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿23﴾

    اپنے پروردگار کے بارے میں تمہارا یہی گمان تھا جس نے تمہیں برباد کیا، اور اسی کے نتیجے میں تم ان لوگوں میں شامل ہوگئے جو سراسر خسارے میں ہیں۔
  24. فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ﴿24﴾

    اب ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر یہ صبر کریں تب بھی آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے اور اگر یہ معذرت چاہیں تو یہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جن کی معذرت قبول کی جاتی ہے
  25. وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ع﴿25﴾

    اور ہم نے (دنیا میں) ان پر کچھ ساتھی مسلط کردئیے تھے جنہوں نے ان کے آگے پیچھے کے سارے کاموں کو خوشنما بنادیا تھا چنانچہ جو دوسرے جنات اور انسان ان سے پہلے گذر چکے ہیں ان کے ساتھ مل کر عذاب کی بات ان پر بھی سچی ہوئی۔ یقینا وہ سب خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہیں
  26. وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ﴿26﴾

    اور یہ کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ : اس قرآن کو سنو ہی نہیں، اور اس کے بیچ میں غل مچا دیا کرو تاکہ تم ہی غالب رہو
  27. فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿27﴾

    اس لیے ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور یہ (دنیا میں) جو بدترین کام کیا کرتے تھے، اس کا پورا پورا بدلہ دیں گے
  28. ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ﴿28﴾

    یہی ہے سزا اللہ کے دشمنوں کی جو آگ کی صورت میں ہوگی، اسی میں ان کا دائمی ٹھکانا ہوگا جو اس بات کا بدلہ ہوگا کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔
  29. وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ﴿29﴾

    اور یہ کافر لوگ کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ان جنات اور انسانوں دونوں کی صورت دکھائیے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، تاکہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ایسا روندیں کہ وہ خوب ذلیل ہوں ۔
  30. اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ﴿30﴾

    (دوسری طرف) جن لوگوں نے کہا ہے کہ ہمارا رب اللہ ہے، اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے تو ان پر بیشک فرشتے (یہ کہتے ہوئے) اتریں گے کہ : نہ کوئی خوف دل میں لاؤ، نہ کسی بات کا غم کرو، اور اس جنت سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا
  31. نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ﴿31﴾

    ہم دنیا والی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی تھے، اور آخرت میں بھی رہیں گے۔ اور اس جنت میں ہر وہ چیز تمہارے ہی لیے ہے جس کو تمہارا دل چاہے، اور اس میں ہر وہ چیز تمہارے ہی لیے جو تم منگوانا چاہو
  32. نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ع﴿32﴾

    یہ سب کچھ اس ذات کی طرف سے پہلی پہل میزبانی ہے جس کی بخشش بھی بہت ہے جس کی رحمت بھی کامل
  33. وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ﴿33﴾

    اور اس شخص سے بہتر بات کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف دعوت دے، اور نیک عمل کرے، اور یہ کہے کہ میں فرماں برداروں میں شامل ہوں۔
  34. وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ﴿34﴾

    اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، تم بدی کا دفاع ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو نتیجہ یہ ہوگا کہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا ہوجائے گا جیسے وہ (تمہارا) جگری دوست ہو
  35. وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ﴿35﴾

    اور یہ بات صرف انہی کو عطا ہوتی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں اور یہ بات اسی کو عطا ہوتی ہے جو بڑے نصیب والا ہو
  36. وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿36﴾

    اور اگر تمہیں شیطان کی طرف سے کبھی کوئی کچوکا لگے تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو بیشک وہ ہر بات سننے والا، ہر بات جاننے والا ہے
  37. وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ﴿37﴾

    اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند۔ نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو اور سجدہ اس اللہ کو کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اگر واقعی تمہیں اسی کی عبادت کرتے ہو
  38. فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩۩﴿38﴾

    پھر بھی اگر یہ (کافر) تکبر سے کام لیں، تو (کرتے رہیں) کیونکہ جو (فرشتے) تمہارے رب کے پاس ہیں۔ وہ دن رات اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ اکتاتے نہیں ہیں
  39. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿39﴾

    اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ مرجھائی پڑی ہے۔ پھر جونہی ہم نے اس پر پانی اتارا، وہ حرکت میں آگئی، اور اس میں بڑھوتری پیدا ہوگئی، حقیقت یہ ہے کہ جس نے اس زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے۔ یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے
  40. اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿40﴾

    جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں ٹیڑھا راستہ اختیار کرتے ہیں وہ ہم سے چھپ نہیں سکتے۔ بھلا بتاؤ کہ جس شخص کو آگ میں ڈال دیا جائے، وہ بہتر ہے، یا وہ شخص جو قیامت کے دن بےخوف و خطر آئے گا (اچھا) جو چاہو کرلو یقین جانو کہ وہ تمہارے ہر کام کو خوب دیکھ رہا ہے
  41. اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ﴿41﴾

    بیشک (ان لوگوں نے بہت برا کیا ہے) جنہوں نے نصیحت کی اس کتاب کا انکار کیا جبکہ وہ ان کے پاس آچکی تھی، حالانکہ وہ بڑی عزت والی کتاب ہے
  42. لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ﴿42﴾

    جس تک باطل کی کوئی رسائی نہیں ہے نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے یہ اس ذات کی طرف سے اتاری جا رہی ہے جو حکمت کا مالک ہے، تمام تعریفیں اسی کی طرف لوٹتی ہیں
  43. مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ﴿43﴾

    (اے پیغمبر !) تم سے جو باتیں کہی جا رہی ہیں، وہ وہی ہیں جو تم سے پہلے پیغمبروں سے کہی گئی تھیں، یقین رکھو تمہارا پروردگار مغفرت کرنے والا بھی ہے، اور دردناک سزا دینے والا بھی
  44. وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ع﴿44﴾

    اور اگر ہم اس (قرآن) کو عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ : اس کی آیتیں کھول کھول کر کیوں نہیں بیان کی گئیں ؟ یہ کیا بات ہے کہ قرآن عجمی ہے اور پیغمبر عربی ؟ کہہ دو کہ جو لوگ ایمان لائیں، ان کے لیے یہ ہدایت اور شفا کا سامان ہے اور جو ایمان نہیں لاتے، ان کے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے اور یہ (قرآن) ان کے لیے اندھیرے میں بھٹکنے کا سامان ہے۔ ایسے لوگوں کو کسی دور دراز جگہ سے پکارا جا رہا ہے
  45. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ﴿45﴾

    اور ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تھی، پھر اس میں بھی اختلاف ہوا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی، تو ان لوگوں کا معاملہ چکا ہی دیا گیا ہوتا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے ان کو خلجان میں ڈال رکھا ہے
  46. مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ﴿46﴾

    جو کوئی نیک عمل کرتا ہے، وہ اپنے ہے فائدے کے لیے کرتا ہے اور جو کوئی برائی کرتا ہے، وہ اپنے ہی نقصان کے لیے کرتا ہے اور تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے
  47. اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ﴿47﴾

    قیامت کے کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اور اللہ کے علم کے بغیر نہ پھلوں میں سے کوئی پھل اپنے شگوفوں سے نکلتا ہے اور نہ کسی مادہ کو حمل ٹھہرتا ہے، اور نہ اس کے کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے، اور جس دن وہ ان (مشرکوں) کو پکارے گا، کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟ تو وہ کہیں گے کہ : ہم تو آپ سے یہی عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی اب اس بات کا گواہ نہیں ہے (کہ آپ کا کوئی شریک ہے)
  48. وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ﴿48﴾

    اور پہلے یہ لوگ جن (جھوٹے خداؤں) کو پکارا کرتے تھے ان کو اب ان کا کوئی سراغ نہیں ملے گا، اور وہ سمجھ جائیں گے کہ ان کے لیے اب بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
  49. لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ﴿49﴾

    انسان کا حال یہ ہے کہ وہ بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا اور اگر اسے کوئی برائی چھو جائے تو ایسا مایوس ہوجاتا ہے کہ ہر امید چھوڑ بیٹھتا ہے
  50. وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ﴿50﴾

    اور جو تکلیف اسے پہنچتی تھی اگر اس کے بعد ہم اسے اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھا دیں تو وہ لازم یہ کہے گا کہ : یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت آنے والی ہے، اور اگر مجھے اپنے رب کے پاس واپس بھیجا بھی گیا تو مجھے یقین ہے کہ اس کے پاس بھی مجھے خوش حالی ہی ضرور ملے گی۔ اب ہم ان کافروں کو یہ ضرور جتلائیں گے کہ انہوں نے کیا عمل کیے ہیں اور انہیں ایک سخت عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے۔
  51. وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ﴿51﴾

    اور جب ہم انسان پر کوئی انعام کرتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا اور پہلو بدل کر دور چلا جاتا ہے، اور جب اسے کوئی برائی چھو جاتی ہے تو وہ لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔
  52. قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ﴿52﴾

    (اے پیغمبر ان کافروں سے) کہو کہ : ذرا مجھے بتاؤ کہ اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے آیا ہے، پھر بھی تم نے اس کا انکار کیا تو اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو (اس کی) مخالفت میں بہت دور نکل گیا ہو ؟
  53. سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ﴿53﴾

    ہم انہیں اپنی نشانیاں کائنات میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اپنے وجود میں بھی، یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل کر سامنے آجائے کہ یہی حق ہے۔ کیا تمہارے رب کی یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز کا گواہ ہے ؟
  54. اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ع﴿54﴾

    یاد رکھو کہ یہ لوگ اپنے رب کا سامنا کرنے کے معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ یاد رکھو کہ وہ ہر چیز کو احاطے میں لیے ہوئے ہے۔