Al-Quran-al-Kareem - Al-Insaan : 14
وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا
وَدَانِيَةً : اور نزدیک ہورہے ہوں گے عَلَيْهِمْ : ان پر ظِلٰلُهَا : ان کے سائے وَذُلِّلَتْ : اور نزدیک کردئیے گئے ہوں گے قُطُوْفُهَا : اس کے گچھے تَذْلِيْلًا : جھکا کر
اور اس کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور اس کے خوشے تابع کردیے جائیں گے، خوب تابع کیا جانا۔
(ودانیۃ علیھم ظلھا…:”’ انیۃ“”’ نا یدنو“ (ن) سے اسم فاعل ہے، قریب۔ ”ذلت“ تابع کئے جائیں گے، جھکا دیئے جائیں گے۔ ”تذلیلاً“ تاکید ہے، خوب جھکانا۔ ”قطوف“ ”قطف“ کی جمع ہے، خوشہ، چنا ہوا پھل ، یعنی جنت کے درختوں کے سائے نہایت گھنے اور جھکے ہوئے ہوں گے اور اس کے پھلوں کے خوشے جنتیوں کے تابع اور ان کی دسترس میں ہوں گے جو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے جس طرح چاہیں گے توڑ سکیں گے۔ انس بن مالک ؓ عنہماباین کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان فی الجنۃ الشجرۃ یسیر الراکب فی ظلھا مائۃ عام لایقطعھا) (بخاری، بدہ الخلق ، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ…: 3251)”جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں سوار سو برس تک چلتا رہے گا مگر اسے طے نہیں کرسکے گا۔“
Top