Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 10
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔
(67:13) واسروا قولکم او اجھروا بہ : کلام مستانفہ ہے اسروا فعل امر ۔ جمع مذکر حاضر۔ اسرار (افعال) مصدر تم چھپاؤ۔ تم چھپا کر کہو۔ اوجھروا بہ : او بمعنی یا۔ اجھروا فعل امر حاضر ، جمع مذکر۔ جھر (باب فتح) مصدر۔ تم زور سے کہو۔ تم کھلم کھلا کہو، تم بلند آواز سے کہو۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ انہ یعلم الجھر من القول ویعلم ما تکتمون (21:110) جو بات پکار کر کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے۔ اسروا او اجھروا۔ دونوں امر کے صیغے ہیں لیکن امر بمعنی خبر سے یعنی تمہارا چپکے چپکے باتیں کرنا اور بلند آواز سے بولنا دونوں علم الٰہی میں برابر ہیں۔ پہلے کفار کا ذکر غائبانہ تھا اب اس آیت میں تہدید کے طور پر غائب سے حاضر کی طرف کلام کو موڑ کر روئے خطاب کافروں کی طرف کردیا گیا ہے۔ انہ علیہم بذات الصدور۔ بیشک وہ دلوں کی بات بھی (خوب) جانتا ہے یعنی زبان پر لانے سے پہلے ہی وہ ان باتوں کو جانتا ہے نہ اس کو بلند آواز سے بولنے کی ضرورت ہے نہ آہستہ آہستہ کہنے کی۔ یہ مساوات (سابقہ) یعنی بلند آواز یا آہستہ بولنے کا اس کے نزدیک برابر ہونا اس کی یہ علت ہے کہ وہ تو بولنے سے قبل ہی اس بات کا علم رکھتا ہے ۔ اس لئے بلند آواز سے بولنا یا آہستہ بولنا سب اس کے نزدیک برابر ہے۔
Top