Bayan-ul-Quran - Al-Mulk : 13
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
اور تم لوگ خواہ چھپاکر بات کہو یا پکار کر اس کو سب خبر ہے (کیونکہ) وہ دلوں تک کی باتوں سے خوب واقف ہے۔ (ف 3)
3۔ حاصل استدلال کا یہ ہے کہ وہ ہر شے کا خالق مختار ہے، پس تمہارے احوال و اقوال کا بھی خالق ہے اور خلق بالاختیار مسبوق بالعلم ہوتا ہے پس علم ضروری ہوا، اور تخصیص اقوال کی مقصود نہیں بلکہ حکم عام ہے تخصیص ذکری شاید اس بنا پر ہو کہ اقوال کثیر الوقوع ہیں، غرض اس کو سب علم ہے وہ ہر ایک کو مناسب جزا دے گا۔
Top