Tafseer-e-Saadi - Al-Mulk : 13
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔
یہ اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے اپنے وسیع علم، بےپایاں لطف و کرم کے بارے میں خبر ہے، چناچہ فرمایا (واسروا قولکم اواجھروا بہ) اور تم پوشیدہ کہو یا ظاہر، یعنی اس کے لیے دونوں برابر ہیں، دونوں میں سے کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی، پس (انہ علیم بذات الصدور) وہ سینے میں چھپائی ہوئی نیتوں اور ارادوں کو بھی جانتا ہے وہ ان اقوال کو کیوں کر نہیں جانتا جن کو سنا جاسکتا ہے اور جن کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم پر عقلی دلیل سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا (الایعلم من خلق) یعنی وہ ہستی جس نے مخلوق کو نہایت مہارت سے اور بہترین طریقے سے پیدا کیا وہ سینوں کے بھید کیونکر نہ جانتی ہوگی ؟ (وھواللطیف الخبیر) اس کے علم وخبر بہت لطیف ہیں حتی کہ وہ سینے کے بھیدوں، ضمیر کے رازوں، تمام چھپی ہوئی چیزوں، خفیہ امور اور غیوب کو جانتا ہے، وہی ہے جو (یعلم السر واخفی) (طہ 7) چھپی ہوئی اور پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے۔ (اللطیف) کے معانی میں سے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے بندے اور دوست کے ساتھ نہایت لطف و کرم سے پیش آتا ہے، اس کے ساتھ احسان اور نیکی اس طرح کرتا ہے کہ اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے شر سے ایسے بچاتا ہے جس کا اسے وہم و گمان نہیں ہوتا، وہ اسے ایسے اسباب کے ذریعے سے اعلی مراتب پر فائز کرتا ہے جو بندے کے تصور میں بھی نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اسے ناگوار حالات کا مزا چکھاتا ہے تاکہ ان کے ذریعے سے اسے جلیل القدر محبوبات اور اعلی مطالب و مقاصد تک پہنچائے۔
Top