Tafseer-e-Haqqani - Al-Mulk : 13
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
اور تم اپنی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو بیشک وہ تو دلوں کی بات کو بھی (خوب) جانتا ہے۔
ا ؎ واسرواقولکم اواجہروابہ دلیل ہے بالغیب ڈرنے کے لئے۔ بالغیب کیوں ڈرو کس لیے کہ وہ مخفی اور ظاہر باتیں جانتا ہے پھر اور ترقی کرتا ہے۔ انہ علیم بذات الصدور کہ جواہر اور موجود فی الخارج چیزوں کے جاننے پر انحصار نہیں۔ وہ دلی خیالات سے بھی واقف ہے پھر اس پر دلیل لاتا ہے۔ الایعلم من خلق کہ وہ خالق ہے اور خالق کو مخلوق کا علم ہے معلوم ہوا کہ دلی خیالات بھی اس کے مخلوق ہیں۔ اس کے بعد اور ترقی کرتا ہے۔ وہ لطیف ہے مجردات کو غیب کی سینکڑوں باتیں معلوم ہوتی ہیں چہ جائے کہ لطیف ہو تمام مجردات اس کے آگے کثیف ہیں اور اس پر خبیر بھی ہو۔ 12 منہ
Top