Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 13
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
تم اپنی بات چھپا کے کہو یا علانیہ کہو، وہ تو دلوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے
وَاَسِرُّوْا قَوْلَـکُمْ اَوِ اجْھَرُوْا بِہٖ ط اِنَّـہٗ عَلَیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ۔ (الملک : 13، 14) (تم اپنی بات چھپا کے کہو یا علانیہ کہو، وہ تو دلوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔ کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کے علم کی ہمہ گیری خطاب تمام نوع انسانی کو ہے جس میں کافر بھی ہیں اور مومن بھی۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیتیں تہدید کے محل میں بھی ہوسکتی ہیں اور تسلی کے محل میں بھی۔ کافروں کو تہدید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ جس طرح من مرضی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا گمان یہ ہے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر ہے اور ان کے دلوں کے بھیدوں کو تو بالکل نہیں جانتا۔ تو انھیں تنبیہ کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ تم کسی بات کو چھپا کے کہو یا علانیہ کہو، آہستہ کہو یا زور سے کہو۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات مخفی نہیں رہ سکتی۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تو وہ ذات ہے جو دلوں میں چھپے ہوئے خیالات کو بھی جانتا ہے۔ جو انسان کے مخفی ارادوں سے بھی باخبر ہے۔ انسان کے ذہن میں جو لہر اٹھتی ہے اسے ارادہ بنتے کچھ دیر لگتی ہے، اللہ تعالیٰ اس پورے پراسیس سے واقف ہے۔ اس لیے کافروں کو یہ احساس رہنا چاہیے کہ قیامت کے دن انھیں اس ذات سے سابقہ پیش آنے والا ہے جو ان کی ہر طرح کی باتوں، ہر طرح کے ارادوں اور ہر طرح کے اعمال سے باخبر رہا ہے اور آج اسی کے مطابق ان سے معاملہ کرے گا۔ اور مومنوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ تم نے راہ حق میں جو صعوبتیں اٹھائی ہیں اور اس راستے میں تمہیں جو حوادث پیش آئے ہیں اور جس طرح تمہارا احساس زخمی ہوتا رہا ہے اور جس طرح تمہارے دلوں کی کرچیاں ہوئی ہیں ان میں سے کوئی بات بھی اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ تم نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جو مال خرچ کیا اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے جس طرح فکرمند رہے، ہر بات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ چناچہ وہ اپنے علم کے مطابق تمہاری ایک ایک قربانی کی قدر کرے گا اور تمہارے ایک ایک عمل کی جزاء دے گا۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ کسی کو اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے تمام افکار و اعمال سے کیسے واقف ہوسکتا ہے اور ان کی دماغی کاوشیں اور دل کی امنگیں کس طرح اس کے علم میں آسکتی ہیں۔ فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کا خالق ہی نہیں بلکہ اسی نے ان کو دل و دماغ دیئے اور ان کی رعنائیوں اور صلاحیتوں کو بھی اسی نے تخلیق فرمایا۔ انسان کی فطرت بھی اسی نے پیدا کی اور ان کا انگ انگ اور دل و دماغ کا ایک ایک ریشہ اور سانس کی آمد و رفت کا ایک ایک شمہ اور انسان کے اعضاء کا ایک ایک بند اسی کی تخلیق اور اسی کی تدبیر سے کام کررہا ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی بات اس سے مخفی رہے۔ آخر میں فرمایا کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی۔ وہ باریک بیں بھی ہے اور دقیقہ رس بھی۔ وہ غیرمحسوس طریقے سے کام کرتا ہے اور پوشیدہ حقائق سے بھی واقف ہے۔ اس کے لیے خفی اور جلی کی کوئی تقسیم نہیں۔ اس کا علم اور اس کی اطلاع ہر طرح کی ناتمامی اور نارسائی سے پاک ہے۔ اس کا علم ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم کا یہ جامع تصور اور اس کے ہمہ وقت خبیر ہونے کا یقین وہ قوت ہے جو انسان کو شرک کی ہر آلودگی سے پاک کردیتی ہے اور اسی عقیدے میں کمزوری شرک کے لیے بہت سے راستے کھول دیتی ہے۔
Top