Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 13
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
اور تم اپنی بات پوشیدہ رکھو یا ظاہر کرو بلاشبہ وہ (اللہ رب ذوالجلال والاکرام) دلوں کے راز بھی خوب جانتا ہے
تم اپنی بات پوشیدہ رکھو یا ظاہر کرو وہ تو دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ 13 ؎ تم میں سے کوئی شخص اپنی باتوں کو اس طرح چھپائے کہ وہ کسی پر بھی ان کو ظاہر نہ ہونے دے یا وہ اپنی باتوں کو ظاہر کرے دونوں صورتیں اللہ تعالیٰ کے لئے یکساں ہیں وہ ہر انسان کی باتوں کو جانتا ہے ، ان کو بھی جن کو چھپا کر رکھا جاتا ہے اور ان کو بھی جن کو وہ ظاہر کرتا ہے۔ وہ سب کو یکساں جانتا ہے ، کوئی خواہ کتنے ہی راز میں رکھی گئی ہو اس سے پوشیدہ نہیں رکھی جاسکتی۔ زبان سے کہی ہوئی بات تو خیر کہی گئی ہوتی ہے وہ تو سینوں کے رازوں تک سے واقف ہے اور جو خیالات و افکار ابھی انگڑایاں لے رہے ہوتے ہیں ان سے بھی وہ آگاہ ہوتا ہے۔ منکرین چاہے اس کو تسلیم نہ کریں لیکن ایمان والے اس سے انکار نہیں کرسکتے۔
Top