Mazhar-ul-Quran - Al-Mulk : 13
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
اور2 تم لوگ اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے (اس کو سب خبر ہے) وہ تو دلوں تک کی باتوں کو جانتا ہے ۔
علم الٰہی ۔ (ف 1) شان نزول : مشرکین اسلام کی اور نبی ﷺ کی اور مسلمانوں کی مذمت کرتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ چپکے چپکے باتیں کرو، ایسانہ ہو کہ محمد ﷺ کا خدا ہماری باتیں سن پائے ، اسی پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو دل کا بھید تک معلوم ہے اس سے کوئی بات کس طرح چھپی رہ سکتی ہے۔
Top