Fi-Zilal-al-Quran - At-Taghaabun : 15
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ جَآءُوْ : وہ آئے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں رَبَّنَا : اے ہمارے رب اغْفِرْ لَنَا : ہمیں بخشدے وَلِاِخْوَانِنَا : اور ہمارے بھائیوں کو الَّذِيْنَ : وہ جنہوں نے سَبَقُوْنَا : ہم سے سبقت کی بِالْاِيْمَانِ : ایمان میں وَلَا تَجْعَلْ : اور نہ ہونے دے فِيْ قُلُوْبِنَا : ہمارے دلوں میں غِلًّا : کوئی کینہ لِّلَّذِيْنَ : ان لوگوں کیلئے جو اٰمَنُوْا : وہ ایمان لائے رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اِنَّكَ : بیشک تو رَءُوْفٌ : شفقت کرنیوالا رَّحِيْمٌ : رحم کرنے والا
پھر جب ابراہیم کے (دل) سے ڈر جاتا رہا اور (اولاد کی) خوش خبری ملی تو لوط کی قوم کے مقدے میں ہم سے جھگڑنے لگا9
9 ۔ سعید ؓ بن جبیر، قتادہ ؓ اور بعض دوسرے مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو فرشتوں نے بتایا کہ وہ قوم لوط کو ہلاک کرنے جا رہے ہیں تو انہوں نے پوچھا جس بستی میں تین سو مسلمان ہوں کیا تم اسے تباہ کردو گے ؟ انہوں نے کہا ” نہیں۔ کہا : اگر چالیس ہوں تب “ ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ اس پر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا : ان فیمھا لوطا (اس بستی میں لوط تو موجود ہیں) ۔ اس پر انہوں نے کہا :” اس میں جو لوگ ہیں ہمیں ان کا خوب علم ہے۔ ہم لوط کو، اور ان کی بیوی کے سوا ان کے تمام گھر والوں کو بچا لیں گے۔ “ اس وقت حضرت ابراہیم خاموش ہوئے اور ان کا اطمینان ہوگیا۔ (ابن کثیر) ۔
Top