Tadabbur-e-Quran - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
اور کسی بشر کی بھی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردے کی اوٹ سے یا بھیجے کسی فرشتہ کو پس وہ وحی کر دے اس کے اذن سے جو وہ چاہے وہ بڑا ہی عالی مقام، بڑا ہی حکیم ہے
10۔ آگے کا مضمون … آیات :53-51 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں اور یہ خاتمہ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ پوری سورة سے بحیثیت مجموعی بھی تعلق رکھتا ہے اور اوپر کے پیرے سے بھی اس کا نہایت واضح ربط ہے۔ قرآن کے اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ سورة جس مضمون سے شروع ہوتی ہے بالعموم اسی مضمون کے کسی پہلو کیوضاحت پر ختم ہوتی ہے۔ چناچہ اس سورة میں بھی دیکھ لیجیے۔ اس کا آغاز کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک … الایۃ سے ہوا تھا۔ یعنی یہ قرآن اسی طرح کی وحی ہے جس طرح کی وحی اس سے پہلے اللہ تعالیٰ دوسرے نبیوں اور رسولوں پر نازل فرما چکا ہے۔ پھر مقصد اور ذریعہ دونوں کی یکسانی کی وضاحت فرمائی اور خاتمہ اس مضمون پر کیا جس سے آغاز فرمایا تھا۔ چناچہ خاتمہ میں بھی تقریباً وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو تمہید میں آئے ہیں۔ فرمایا ہے : وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا … الایۃ یہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ پوری سورة از اول تا آخر ایک وحدت ہے۔ اوپر کے پیرے سے اس کا تعلق یہ ہے کہ اس کا خاتمہ مخلافین کے سبب اعراض کے بیان پر ہوا ہے۔ ان کے اعراض کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ وہ کہتے کہ اگر محمد ﷺ کا دعویٰ یہ ہے کہ ال لہ ان پر اپنا کلام نازل کرتا ہے تو آخر وہ ہم سے کیوں کلام نہیں کرتا ؟ ان کے اس اعتراض کا جواب ان آیات میں دیا اور آیات کی تفسیر سے واضح ہوجائے گا کہ یہ جواب نہایں جامع و مانع اور مسکت ہے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 11۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت وما کان لبشر ان یکملہ اللہ الاوحیا اومن ورآی حجاب اویرسل رسولا فیوحی باذنہ مایشآء انہ علی حکیم 51 آنحضرت صلعم کے مخالین کے ایک اعتراض کا جواب یہ جواب ہے مخالفین کے اس اعتراض یا مطالبہ کا جو قرآن میں جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے نقل ہوا ہے کہ لولا یکلمنا اللہ اگر اللہ ان سے (پیغمبر سے) بات کرتا ہے، جیسا کہ یہ دعویٰ کرتے ہیں تو آخر وہ ہم سے رو در رو ہو کر بات کیوں نہیں کرتا ؟ آخر ان کے ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ ان کو تو وہ اپنے شرف خطاب سے نوازتا ہے اور ہم کو لائق التاف نہیں سمجھتا حالانکہ ہم عزت و وجاہت میں ان سے کہیں بڑھ کر ہیں ! اس کے جواب میں فرمایا کہ کسی انسان کا یہ درجہ و مقام نہیں ہے کہ اللہ اس سے رو برو ہو کر بات کرے۔ وہ بات کرتا ہے تو وحی کے ذریعہ سے بات کرتا ہے، یا پردے کی آڑ سے بات کرتا ہے یا اپنا کوئی اقصد یعنی فرشتہ بھیج دیتا ہے جو اس کے اذن سے، جو کچھ وہ چاہتا ہے، اس کے کسی بندے کی طرف، جس کو وہ اپنے خطاب و کلام کے لئے منتخب فرماتا ہے، وحی کردیتا ہے۔ وما کان لبشر سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ خدا سے بالمشافہ کلام میں جو چیز مانع ہے وہ درحقیقت انسان کا اپنا ضعف اور اس کی اپنی نا اہلیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی عالی مقام، ایسی باعظمت اور ایسے انوار و تجلیات کا مظہر ہے کہ کوئی بشر اس سے رو درو ہونے کی تاب نہیں لا سکتا۔ حضرت موسیٰ ؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر کی نسبت قرآن میں مذکور ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی خاہش کی تو ان کو جو ابملا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ میری تجلی کی تاب پہاڑ بھی نہیں لا سکتے تو تم اس کا تحمل کس طرح کرسکو گے۔ الا وحیا او من ورآءی حجاب او یرسل رسولاً فیوحی بلذنہ ما یشآء یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے اگر کسی سے خطاب کرتا ہے تو تین طریقوں سے خطاب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خطاب کی مختل شکلیں ایک طریقہ وحی کا ہے وحی سے مراد دل میں بات ڈال دینے کے ہیں۔ اسی کو احادیث میں القاء فی الروع یا نفث فی الروع سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کے دل پر اپنا کلام القاء فرما دیتا ہے اور پیغمبر اس کو محفوظ کرلیتا ہے۔ الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ چیز مجر و فکر یا خیال کی شکل میں نہیں بلکہ کلام کی شکل میں نازل ہوتی ہے جس کو نبی سنتا بھی ہے سمجھتا بھی ہے اور اس کو محفوظ بھی کرلیتا ہے۔ یہاں یہ بات خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نبیوں سے اپنے کلام کا طریقہ بتایا ہے اس وجہ سے ہمارے نزدیک ان لوگوں کا خیال صحیح نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ وحی مجرد فکر کی شکل میں دل پر القاء ہوتی ہے جس کو الفاظ کا جامہ پیغمبر پہناتا ہے۔ او من ورآءی حجاب دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ پردے کی اوٹ سے بات کرتا ہے۔ یعنی نبی اللہ کا کلام اور اس کی آواز تو سنتا ہے لیکن اس کو دیکھتا نہیں۔ اس کی مثال حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ اللہ کا کلام و خطاب ہے۔ تورات اور قرآن دونوں میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے بات کی لیکن اس کو دیکھا نہیں اور قرآن میں یہ تصریح بھی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے سوا اور کسی نبی سے اللہ تعالیٰ نے اس طرح کلام نہیں کیا۔ یہ شرف صرف حضرت موسیٰ ؑ ہی کو حاصل ہوا۔ او یرسل رسولا فیوحی باذنہ مایشآء تیسرا طریقہ یہ یکہ اللہ تعالیٰ اپنا کوئی رسول یعنی فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے پیغمبر کے دل پر القاء کردیتا ہے، مثلاً سورة بقرہ میں ہے۔ قل من کان عدوالجبریل فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ (97) کہہ دو کہ جو جبرئیل کا دشمن ہے وہ اس بات کو یاد رکھے کہ جبریل نے اس قرآن کو تمہارے دل پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے۔ یہی بات سورة نحل میں یوں ارشاد ہوئی ہے۔ قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق (النحل :102) کہہ دو اس قرآن کو روح القدس نے تیرے رب کی طرف سے اتارا ہے۔ نض کے کلام و خطاب کے یہ تین طریقے ہیں۔ ان میں سے دو طریقے، جو اوپر مذکور ہوئے، اس اعتبار سے ایک مخصوص نوعیت کے حامل ہیں کہ ان میں کلام بلاواسطہ نبی پر نازل ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور نبی کے درمیان جبریل امین کا واسطہ نہیں ہوتا اور تیسرے میں جبریل امین واسطہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے دو طریقے … پہال اور تیسرا … معروف طریقے ہیں دوسرا طریقہ حضرت موسیٰ ؑ کے مخصوصات میں سے ہے کسی اور نبی کے متعلق، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ چیز مذکور نہیں ہے۔ اگر الاقدم فالاقدم کے اصول کو سامنے رکھیے تو یہ بات بھی نکلتی ہے کہ پہلے طریقہ کو متربہ کے لحاظ سے اولیت حاصل ہے۔ یہاں صرف تین طریقے مذکور ہوئے ہیں اس لئے کہ جس سوال کو پیش نظر رکھ کر یہ آیت وارد ہوئی ہے اس کا جواب انہی تین صورتوں کے ذکر کا مقتضی تھا لیکن قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تین طریقوں کے علاوہ دو اور طریقے بھی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اپنے بعض ارادوں سے آگاہ فرماتا ہے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ فرشتہ بشری شکل میں ممثل ہو کر ظاہر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیتا ہے۔ اس کی مثال حضرت ابراہیم حضرت لوط اور حضرت مریم کے ان واقعات میں موجود ہے جو قرآن میں تفصیل سے مذکور ہوئے ہیں۔ دوسرا طریقہ رئویا کا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو جو کچھ مطلوب ہوتا ہے وہ رئویا میں امر فرما دیتا یا مشاہدہ کر ا دیتا ہے۔ مثلاً حضرت ابراہیم ؑ کو بیٹے کی قربنی کا حکم رئویا میں ہوا۔ غزوہ بدر سے متعلق آنحضرت ﷺ کو بہت سے واقعات رئویا میں مشاہدہ کر ئاے گئے۔ ایک نہایت اہم رئویا کا ذکر سورة نبی اسرائیل میں بھی گزر چکا ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام و خطاب اور ایماء و اشارہ کے پانچ طریقے ہیں اور ہمارے نبی ﷺ براہ راست کلام کے سوا جو حضرت موسیٰ ؑ کے مخصوصات میں سے ہے، ان میں سے ہر طریقہ سے مشرف ہوئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرت موسیٰ کو بھی یہ شرف صرف ایک آدھ بار ہی حاصل ہوا باقی تورات اسی طرح کی وحی ہے جس طرح کی وحی دوسرے صحیفے ہیں۔ انہ علی حلیم یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفتوں کا حوالہ دیا ہے۔ ایک اس کی عظمت، رفعت اور بالاتری کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسری اس کی حکمت اور اس حکمت کے لوازم رحمت، عدل اور ہدایت خلق … کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ان دونوں کو جمع کرنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی بلند وبالا ہے کہ نہ اس کو کسی سے کلام کی ضرورت ہے اور نہ کوئی یہ درجہ و مرتبہ رکھتا ہے کہ اس سے ہم کلام ہو سکتے لیکن اس عظمت و رفعت کے ساتھ وہ حکیم، عادل اور رحیم بھی ہے اس وجہ سے وہ خلق کی رہنمائی اور اپنے بندوں کی اصلاح کے لئے ان کو اپنے خطاب و کلام سے بھی نوازتا ہے اور اس کے لئے اس نے وہ طریقے اختیار فمائے جو اپور مذکور ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے آگے بڑھ کر جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ خدا ان میں سے ہر ایک سے رو و رو و ہو کر بات کرے تو اس قسم کے لوگ نہ خدا کی عظمت سے آگاہ ہیں، نہ اپنی بےحقیقتی سے ! ! ایسے احمق لوگ اپنی اس رعونت ہی کے ہاتھوں ہلاک ہوں گے۔
Top