Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
کسی بشر کی یہ تاب نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے، مگر وحی کے ذریعے سے یا پردے کے پیچھے سے یا وہ بھیجے کسی فرشتے کو، پس وہ وحی کردے اس کے اذن سے جو وہ چاہے، وہ بڑا ہی عالی مقام، بڑا ہی حکمت والا ہے
وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّـکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلاَّ وَحْیًا اَوْمِنْ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوْیُرْسِلَ رَسُوْلاً فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَایَشَآئُ ط اِنَّـہٗ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ۔ (الشوری : 51) (کسی بشر کی یہ تاب نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے، مگر وحی کے ذریعے سے یا پردے کے پیچھے سے یا وہ بھیجے کسی فرشتے کو، پس وہ وحی کردے اس کے اذن سے جو وہ چاہے، وہ بڑا ہی عالی مقام، بڑا ہی حکمت والا ہے۔ ) کفار کے ایک اعتراض کا جواب روایات میں ہے کہ بعض یہودی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے کہا ہم جس پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بالمشافہ بات کرتا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھتا بھی تھا اور اس کا کلام سنتا بھی تھا۔ اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگ جو بعد میں یہودی کہلائے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ بات کہتے تھے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ سے کلام کرتا ہے، اگر یہ بات سچ ہے تو اللہ تعالیٰ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا ؟ حالانکہ دنیوی مرتبہ و مقام کے لحاظ سے ہم آپ سے برتر ہیں۔ اگر وہ آپ کو شرف خطاب سے نوازتا ہے تو ہم تو آپ سے زیادہ اس کے مستحق ہیں۔ ایسی ہی باتوں کا جواب پیش نظر آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ کسی انسان کا یہ مقام و مرتبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے روبرو اور بالمشافہ بات کرے۔ وہ اپنے بلند مقام اور وسیع قدرت کے لحاظ سے اتنا عظیم ہے کہ انسان اس سے کلام کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ایک مخلوق چاہے وہ اپنے تئیں کچھ بھی سمجھے لیکن اس کا یہ مرتبہ نہیں کہ وہ اپنے خالق سے بات کرنے کی جرأت کرسکے۔ اور دوسری یہ بات کہ اللہ تعالیٰ ایسے عظیم انوار و تجلیات کا مظہر ہے کہ کوئی بشر اس سے رو در رو ہونے کی تاب نہیں لاسکتا۔ انسان کی اصلاح کے حوالے سے اس نے جب کبھی انسانوں سے بات کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے تو اس کے لیے تین طریقوں میں سے کوئی طریقہ اختیار فرمایا۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ وہ وحی کے ذریعے سے بات کرتا ہے۔ وحی سے مراد القاء، الہام، دل میں کوئی بات ڈال دینا یا خواب میں کچھ دکھا دینا ہے۔ جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خواب میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اور آنحضرت ﷺ پر بھی وحی کا آغاز سچے خوابوں کے ذریعے ہوا۔ آپ خواب میں جو کچھ دیکھتے، دن کی روشنی میں اس کی تعبیر دیکھ لیتے۔ اس لیے امت کا یہ عقیدہ ہے کہ پیغمبر کا خواب وحی ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے جسے مولانا محمدادریس کاندھلوی نے اپنے ایک شعر میں ذکر فرمایا ہے : خوابِ پیغمبر کہ ِصبح صادق است وحیِ بیداری کہ روز روشن است دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے پیغمبر سے پردے کے پیچھے سے بات کرتا ہے۔ یعنی پیغمبر اس کی بات کو سنتا ہے لیکن اسے دیکھتا نہیں۔ اس طریقے سے پروردگار نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بات کی۔ یہ طریقہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مخصوصات میں سے ہے۔ قرآن کریم میں یہ تصریح ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سوا اور کسی نبی سے اللہ تعالیٰ نے اس طرح کلام نہیں کیا، یہ شرف صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کو حاصل ہے۔ لیکن اس شرف سے آپ چند دفعہ نوازے گئے ہیں۔ تورات، اسی طریقے سے نازل ہوئی ہے جیسے باقی رسولوں پر کتابیں نازل ہوتی رہی ہیں۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کوئی فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے پیغمبر کے دل پر القاء کردیتا ہے۔ قرآن کریم اسی طرح آنحضرت ﷺ کے دل پر حضرت جبرائیل نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے نازل کیا ہے۔ سورة البقرۃ میں ارشاد فرمایا گیا ہے قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبِرِیْلَ فَاِنَّـہٗ نَزَّلَـہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ (97) ” کہہ دیجیے کہ جو جبریل کا دشمن ہے (اسے معلوم ہونا چاہیے) کہ جبریل نے اس قرآن کو آپ کے دل پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اتارا ہے۔ “ سورة النحل میں ارشاد فرمایا گیا ہے قُلْ نَزَّلَـہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِ (102) ” کہہ دیجیے اس قرآن کو روح القدس نے تیرے رب کی طرف سے اتارا ہے۔ “ یہود اور دیگر مخالفین کے سوال کے جواب کے لیے یہی تین طریقے کافی تھے، اس لیے ان ہی تین طریقوں کا ذکر فرمایا گیا۔ لیکن احادثِ مبارکہ سے ہمیں ایک اور طریقے کا بھی علم ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ فرشتہ کبھی بشری شکل میں ممثل ہو کر بھی ظاہر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس حضرت اسحاق کی ولادت کی خبر لے کر انسانی شکل میں دو فرشتے آئے۔ اور یہی فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس بھی دو نوجوانوں کی شکل میں عذاب خداوندی کا پیغام لے کر گئے۔ اور نبی کریم ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل کئی دفعہ حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں تشریف لائے۔ مشہور حدیث جو حدیث جبرائیل کے نام سے مشہور ہے اس میں بھی اسی طرح حضرت جبرائیل انسانی شکل میں آئے اور آنحضرت ﷺ سے چند سوالات کیے۔ ان کے چلے جانے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔ بعض دفعہ گھر میں حضرت عائشہ ( رض) نے انھیں آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ایسے ہی بعض دوسری روایات سے آنحضرت ﷺ پاس ان کے آنے کا ثبوت ملتا ہے۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ آنحضرت ﷺ حضرت جبرائیل کی آواز سنتے تھے، لیکن آپ کو وہ دکھائی نہیں دیتے تھے۔ اور وحی کا یہ طریقہ آنحضرت ﷺ پر بہت گراں ہوتا تھا۔ نبی کریم ﷺ ان تمام طریقوں سے مشرف ہوئے۔ خاص طور پر وہ طریقہ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص ہے کہ آپ ( علیہ السلام) حجاب کے پیچھے سے اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے۔ زمین پر تو اس طرح آپ پر وحی نہیں اتری لیکن معراج کی رات آسمانوں پر اس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام فرمایا۔ نمازیں اسی طرح فرض کی گئیں، سورة البقرۃ کی آخری آیات اسی طرح نازل ہوئیں۔ اور اسی طرح بعض بشارتوں سے آپ کو نوازا گیا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ علی بھی ہے اور حکیم بھی۔ علی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی بلند وبالا ہے کہ نہ اس کو کسی سے کلام کی ضرورت ہے اور نہ کوئی یہ درجہ اور مرتبہ رکھتا ہے کہ اس سے ہم کلام ہوسکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کا بلند مقام اور اس کے انوار و تجلیات کی وسعت ہے۔ اور دوسری طرف انسان کی کم مائیگی کہ وہ اپنی نگاہ میں وہ طاقت نہیں رکھتا جو اللہ تعالیٰ کا سامنا کرسکے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب پروردگار کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو یہی فرمایا گیا کہ تم مجھے دیکھ نہیں سکتے۔ یعنی اس دنیا میں انسان کے پاس وہ طاقت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تجلیات کو برداشت کرسکے۔ سورج اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے، لیکن جب وہ اپنی پوری تابانی پر ہوتا ہے تو انسان کی غیرمسلح آنکھ اس کو دیکھنے کی تاب نہیں رکھتی تو اس کے خالق کو کیونکر دیکھ سکتی ہے۔ لیکن اہل جنت کی نگاہوں میں جب تیزی پیدا کردی جائے گی تو وہ اپنے رب کی زیارت کرسکیں گے۔ مزید فرمایا کہ پروردگار علی ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم بھی ہے۔ اس وجہ سے وہ اپنے بندوں کی اصلاح کے لیے ان کو اپنے خطاب و کلام سے نوازتا ہے۔ اور اس کے لیے اس نے جو طریقے اختیار فرمائے ہیں وہ آیت کریمہ میں ذکر کردیئے گئے ہیں۔ لیکن ان طریقوں سے بھی وہ خطاب صرف اپنے رسولوں سے فرماتا ہے کیونکہ اس کا تحمل بھی عام آدمی نہیں کرسکتا۔ جس کو بھی اللہ تعالیٰ رسالت کے لیے منتخب فرماتا ہے اس پر رسالت کی ذمہ داریاں عائد کرنے سے پہلے اس کے اندر وہ صلاحیت پیدا فرماتا ہے جو وحی الٰہی کا تحمل کرسکے۔
Top