Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
اور کسی بشر کے لیے یہ موقعہ نہیں ہے کہ وہ اللہ سے بات کرے ہاں وحی کے ذریعہ یا وہ پردہ کے پیچھے سے یا اس طرح بات ہوسکتی ہے کہ اللہ کسی رسول کو بھیج دے پھر وہ رسول اس کی اجازت سے اس کی مشیت کے مطابق وحی پہنچا دے، بیشک وہ برتر ہے حکمت والا ہے،
بندے اللہ تعالیٰ سے کیسے ہم کلام ہوسکتے ہیں ؟ معالم التنزیل ج، ص 132 میں لکھا ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ اللہ سے بات کیوں نہیں کرتے اور اللہ کو دیکھتے کیوں نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کو دیکھا آپ کی تائید میں یہ آیت نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی بشر کے لیے یہ بات حاصل نہیں کہ اللہ سے بات کرے بجز تین طریقوں کے، ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو الہام فرما دے یعنی قلب میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کوئی بات بتادے (مفسرین نے وحیاً کا مصداق بتاتے ہوئے یہ دو صورتیں لکھی ہیں) یا اللہ تعالیٰ پردہ کے پیچھے سے کلام فرمائے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور پر کلام فرمایا تھا یا کسی فرشتہ کو بھیج دے جو اللہ کا پیغام لے کر آجائے اور اللہ کے حکم سے اللہ کی مشیت کے مطابق کسی رسول کو بطور وحی پیغام پہنچا دے یہ تین صورتیں اس دنیا میں اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کی ہیں۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر خاتم النبیین ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے تھے ﴿اِنَّهٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ0051﴾ (بیشک اللہ برتر ہے) مخلوق کو اس سے بات کرنے کا معائنہ کے طور پر تحمل نہیں ہے اور وہ حکیم بھی ہے اپنی حکمت کے مطابق مذکورہ تین طریقوں میں سے اس نے جس طرح چاہا کلام فرمایا۔ فائدہ 1 وَحْيًا کی تفسیر منام اور الہام سے جو کی گئی ہے اس میں یہ تفصیل ہے کہ حضرات انبیاء کرام کا منام اور الہام تو قطعی ہے اور انبیائے کرام کے علاوہ دوسروں کو جو خواب میں بتایا گیا یا بطور الہام دل میں ڈالا گیا ہو وہ ظنی ہے اور کسی کو اس پر شریعت کے خلاف عمل کرنا اور دوسروں سے عمل کرانا جائز نہیں ہے۔ فائدہ 2 آیت کریمہ میں جو ﴿اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ﴾ فرمایا ہے اس سے نورانی حجاب مراد ہے صحیح مسلم میں ہے : حجابہ النور (اس کا پردہ نور ہے) لو کشفہ لا حرقت سبحات وجھھہ ما انتھیٰ الیہ بصرہ من خلقہ (مشکوٰۃ المصابیح ص 21) اگر وہ اسے کھول دے تو اس کی وجہ کریم کے انوار اس کی مخلوق کو وہاں تک جلا دیں جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پردہ کے پیچھے سے کلام کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا تحمل نہیں دیا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ لیں اور دیکھنے کی حالت میں بات چیت کرلیں جنت میں اللہ تعالیٰ شانہٗ قوت برداشت عطا فرما دے گا وہاں اللہ کو دیکھیں گے۔
Top