Baseerat-e-Quran - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
اور کسی بشر کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے ( مگر تین طریقے پر) یا تو وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتے کو بھیج دے جو اللہ کے حکم سے اس پیغام کو پہنچا دے جو کچھ اللہ چاہتا ہے۔ بے شک وہ برتر اور بڑی حکمت والا ہے۔
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 53 یکلم (وہ کلام کرتا ہے) وراء حجاب (پردے کے پیچھے) روح ( جان ( فرشتہ) ماتدری (تو نہیں جانتا) تصیر الامور (کاموں کو لوٹنا) تشریح : آیت نمبر 51 تا 53 : قرآن کریم میں متعد مقامات پر کفار و مشرکین کے وہ بہت سے اعتراضات نقل کر کے ان کے جوابات دیئے گئے ہیں جو وہ نبی کریم ﷺ پر کرتے تھے ان ہی میں سے یہ اعتراض بھی تھا کہ آپ جس کلام کو اللہ کا کلام کہہ کر پیش کر رہے ہیں ہم کیسے یقین کرلیں کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بالکل سچ ہے۔ کفار کہتے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے اس کلام کو خود سے گھڑ لیا ہے کیونکہ نہ تو آپ نے اللہ کو دیکھا نہ وہ آپ کے پاس آتا ہے نہ آپ اس کے پاس جاتے ہیں پھر وہ کون سا ذریعہ ہے کہ آپ کے پاس اللہ کا کلام آتا ہے۔ وہ کہتے کہ اگر یہ سب کچھ سچ ہے تو فرشتے خود آ کر یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اگر ایسا ہوگا تو ہم یقین کرلیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ ہمارا کلام ہے۔ ہم نے ہی اسکو نازل کیا ہے۔ یہی وہ نور ہے جس کے ذریعہ لوگوں کو راہ ہدایت دکھائی جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ جس کلام کو پیش کر رہے ہیں وہ ان کا نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے کیونکہ اس کلام کے نازل ہونے سے پہلے ان کے ذہن کے کسی گوشے میں اس کا تصور اور خیال تک موجود نہ تھا کہ آپ کو کوئی کتاب ملنے والی ہے ۔ اور وہ اللہ پر ایمان رکھنے کے باوجود ایمان کی تمام کیفیات سے بھی پوری طرح واقف نہ تھے لہٰذا اس کے کلام اللہ ہونے میں کسی طرح کا شک و شبہ کرنا پر لے درجہ کی جہالت ہے۔ فرمایا کہ آخرت میں تو انسان کی آنکھوں میں وہ طاقت و قوت آجائے گی جس سے وہ اللہ کو کھلی آنکھوں سے دیکھ سکے گا لیکن اس دنیا میں اصولی طور پر کوئی اس کو دیکھ نہیں سکتا ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیدار الٰہی کی درخواست کی تو اللہ نے فرمایا تھا ” لن ترانی “ اے موسیٰ آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ اس جگہ یہ فرمایا گیا کہ کسی بشر کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ سے براہ راست بات کرے ۔ اگر وہ کلام کرتا ہے تو اس کے تین طریقے ہیں۔ (1) بغیر کسی ذریعہ کے اللہ کا کلام دل پر القاہو جائے یا خواب میں اشارہ کردیا جائے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ پر وحی کی ابتداء خوابوں کے ذریعہ ہوئی ہے ( بخاری و مسلم) اسی طرح بہت سی احادیث میں بھی وحی کی ابتداء خوابوں سے بیان کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے قلب مبارک پر براہ راست بغیر کسی واسطے کے بہت سی باتیں القاء کی گئی ہیں جن میں آپ یہ فرماتے ہیں کہ فلاں فلاں بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔ ایسی احادیث کو احادیث قدسیہ کہا جاتا ہے جن کی تعداد چھ سو تک پہنچتی ہے۔ ظاہر ہے جس بات میں آپ یہ فرما دیں کہ یہ اللہ نے فرمائی ہے وہ یقینا اللہ کی طرف سے ہے لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ وہ باتیں اللہ نے براہ راست آپ کے قلب پر نازل فرمائی ہیں اس کو القاء کہتے ہیں ۔ اگر یہی باتیں حضرت جبرئیل یا کسی اور واسطے سے ہوتیں تو وہ قرآن کریم کہلاتیں۔ (2) وحی کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پردے کے پیچھے سے آواز تو سنائی دے لیکن شکل نظر نہ آئے جس طرح وادی مقدس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا جہاں ان کو چاروں طرف سے آتی ہوئی آواز سنائی دے رہی تھی یا جس طرح شب معراج نبی کریم ﷺ سے اللہ نے پردے کے پیچھے سے کلام فرمایا اور اگر بعض حضرات کی یہ بات مان لی جائے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ کا دیدار کیا ہے یعنی اپنی کھلی آنکھوں سے اللہ کا دیدار کیا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں دیکھنے نہ دیکھنے کا ذکر اس دنیا کے متعلق آ رہا ہے اگر نبی کریم ﷺ نے اللہ کا دیدار فرمایا ہے تو وہ اس دنیا میں نہیں بلکہ اللہ کے دربار میں دیدار فرمایا ہے جس کا تعلق آخرت سے ہے۔ (3) وحی کا تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ اپنا پیغام اپنے خاص فرشتے ( حضرت جبرئیل امین) کے ذریعہ بندوں تک پہنچائے۔ جس طرح تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور خاص طور پر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر تئیس سال تک حضرت جبرئیل اللہ کی وحی کو لاتے رہے۔ ان تین صورتوں کے علاوہ دنیا کے متعلق یہ قانون ہے کہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ سے بالمشافہ کلام نہیں کرسکتا لہٰذا کفار کا یہ اعتراض نہایت لغو اور فضول ہے کہ ہم کیسے مان لیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے جب کہ آپ نے نہ تو اللہ کو دیکھا ہے نہ اس سے ملاقات ہوئی ہے اور نہ وہ آپس کے پاس آتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ اپنا کلام اسی طرح سارے نبیوں پر بھیجتا رہا ہے اور آخر میں اللہ نے اپنے آخری نبی و رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بھی اپنا کلام حضرت جبرئیل کے واسطے سے بھیجا ہے جو بھی اس کتاب ہدایت پر ایمان لائے گا وہ زندگی کا سیدھا سچا راستہ پالے گا ورنہ زندگی بھر اندھیروں میں بھٹکتا رہے گا ۔ فرمایا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کا سب اسی کی ملکیت ہے ۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے اور اسی کا بتایا ہوا راستہ صراط مستقیم ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔ ۔۔ ۔
Top