Tafseer-al-Kitaab - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
اور (دیکھو، ) کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ اس سے (دوبدو ہو کر) کلام کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے، یا پردے کے پیچھے سے، یا وہ کسی پیغامبر (فرشتے) کو (اس کے پاس) بھیجتا ہے اور وہ اللہ کے حکم سے جو کچھ اللہ کو منظور ہوتا ہے وحی کرتا ہے۔ بیشک وہ عالی مقام (اور) حکمت والا ہے۔
[26] یعنی دل میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کچھ دکھا دے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کو دکھایا گیا۔ [27] یعنی بلاواسطہ پردے کے پیچھے سے کلام فرمائے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر پیش آیا۔ [28] یعنی فرشتہ کے ذریعے وحی بھیجتا ہے جیسے قرآن مجید جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے نبی ﷺ کو بھیجا گیا۔ اس آیت میں جواب ہے مخالفین کے اس مطالبے کا جو قرآن میں متعدد مقامات پر مختلف اسلوبوں سے نقل ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ محمد ﷺ سے بات کرتا ہے جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو آخر وہ ہم سے روبرو ہو کر بات کیوں نہیں کرتا۔
Top