Mualim-ul-Irfan - Ash-Shura : 51
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
اور نہیں ہے کسی انسان کے لائق کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے مگر وحی کی صورت میں یا پردے کے پیچھے سے یا وہ کسی پیغام لانے والے کو بھیجے ، پس وحی پہنچائے وہ اس کے حکم سے جو چاہے ، بیشک وہ بلند وہ حکمتوں والا ہے
ربط آیات گزشتہ درس میں معاد کا ذکر تھا کہ قیامت والے دن جب ظالم لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو دنیا میں واپسی کا کوئی راستہ تلاش کریں گے مگر ایسا ممکن نہیں ہوگا بلکہ وہ ذلیل و خوار ہو کر عذاب مقیم کا شکار بن جائیں گے۔ پھر رسالت کے ضمن میں اللہ نے فرمایا کہ اے نبی (علیہ السلام) آپ مشرکین کی ایذاء رسانیوں سے دل برداشتہ نہ ہوں ۔ آپ حق تبلیغ ادا کرتے ہیں ۔ ان کو راہ راست پر لے آنا آپکی ذمہ داری نہیں ہے ، آپ صرف اپنا کام کرتے جائیں ۔ پھر اللہ نے انسان کی ناشکر گزاری کا ذکر فرمایا کہ جب انہیں آسودگی حاصل ہوتی ہے تو خوش ہوجاتے ہیں اور جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو انسان ناشکر گزاری کا اظہار کرتا ہے ، پھر اللہ نے اپنی صفت تخلیق کا ذکر کیا کہ لڑکے یا لڑکیاں دنیا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ وہ اپنی حکمت بالغہ کے مطابق کسی کو بیٹے عطا کرتا ہے ، کسی کو بیٹیاں ، کسی کو دونوں اصناف اور کسی کو بالکل بانجھ بنا دیتا ہے اللہ تعالیٰ ہر کام اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق انجام دیتا ہے جسے کوئی دوسرا نہیں جان سکتا ۔ خدا تعالیٰ سے ہم کلامی بعض مشرکین اعتراض کرتے تھے کہ یہ شخص کہتا ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے ، اگر یہی بات ہے تو پھر یہ وحی ہم پر کیوں نہیں نازل ہوتی اور اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا ۔ اگر خدا تعالیٰ ہم سے ہم کلام ہوجائے تو ہم جان اور اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا ۔ اگر خدا تعالیٰ ہم سے ہم کلام ہوجائے تو ہم جان سکیں گے کہ یہ اپنے نبی سے بھی کلام کرتا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ کسی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے۔ انسانی جسم کی ساخت اور اس کے قوی میں کلام الٰہی کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ انسان کی صلاحیتیں تو اس قدر کمزور ہیں کہ وہ کسی فرشتے کو بھی اپنی اصلی شکل میں دیکھنے کی آب نہیں لاسکتے چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ سے براہ راست ہم کلام ہوں ، یہ ممکن نہیں ہے مشرکین کا یہی اعتراض سورة الانعام میں بھی مذکور ہے۔ وقالوا لولا انزل علیہ ملک وہ کہتے تھے کہ آپ پر فرشتہ اپنی اصلی شکل و صورت میں کیوں نہیں نازل ہوتا تا کہ ہم بھی اسے دیکھیں اور پھر ایمان لے آئیں ، مگر اللہ نے فرمایا ولو انزلنا مکا لقضی الامر ( آیت : 8) اگر ہم فرشتے کو اس کی اصل شکل میں بھیج دیں تو معاملہ کا فیصلہ ہوجائے یعنی یہ لوگ اس کو دیکھنے کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوجائیں جب ایک عام انسان فرشتے کو نہیں دیکھ سکتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے جلوے کو کیسے برداشت کرسکتا ہے ؟ البتہ اللہ کے نبیوں کی تربیت خاص طریقے پر ہوتی ہے ، ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے ، مگر وہ بھی براہ راست نہیں بلکہ ان تین صورتوں میں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اس مادی اور عنصری جہان میں تو رویت ملائکہ یا خدا سے ہم کلامی ممکن نہیں البتہ عالم برزخ اور عالم آخرت میں ممکن ہے کیونکہ وہ جہان اس جہان سے بہت منتقل ہو کر اس لطیف جہان میں پہنچیں گے تو ان کے قوائے سامعہ اور باصرہ وغیرہ میں بہت زیادہ وسعت پیدا ہوجائے گی ۔ سوۃ ق میں ارشاد ہے فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآئَ کَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ (آیت : 22) اس دن پردہ اٹھ جائے گا اور پھر انسانی بصارت میں بہت تیزی آ جائیگی اور بہت دور کی چیزیں بھی نظر آنے لگیں گی حتیٰ کہ عالم بالا میں عرش ، فرتے ، جنات وغیرہ تک انسانی نگاہ پہنچ سکے گی اور انسان کے قوی بھی اتنے مضبوط ہوجائیں گے جو ان کی رویت کو برداشت کرسکیں گے۔ عالم برزخ میں خدا تعالیٰ سے ہم کلامی کی مثال ایک حدیث سے ملتی ہے حضرت جابر ؓ کے والد حضرت عبد اللہ ؓ غزوہ احد میں شہید ہوگئے تھے او اپنے پیچھے واحد بیٹا حضرت جابر ؓ اور نو بیٹیاں چھوڑ گئے تھے ۔ حضرت جابر ؓ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے سلسلے میں اکثر پریشان رہتے تھے حضور ﷺ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تم کیوں پریشان رہتے ہو ۔ تیرے باپ کو وہ مرتبہ حاصل ہوا ہے کہ عالم برزخ میں اللہ تعالیٰ نے ان سے براہ راست کلام فرمایا ہے۔ جو کسی دوسرے شخص سے نہیں کیا ، بہر حال اس مادہ جہاں میں انسانی قوی اس قابل نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے ہم کلام ہو ماسوائے ان تین صورتوں کے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا ہے۔ (1) کلام بذریعہ وحی فرمایا ہر انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے الا وحیا ً مگر بذریعہ وحی ، وحی کے بہت سے معانی آتے ہیں ۔ مثلاً لغت کے امام ابن ابی بکر ابن عبد القادر رازی (رح) اپنی کتاب ” مختار الصحاح “ میں لکھتے ہیں لو حی الکتاب گویا وحی کا لفظ کتاب پر بھی بولا جاتا ہے۔ وحی کا معنی لکھنا بھی آتا ہے اور وحی کا لفظ اشارے پر بھی بولا جاتا ہے مثلاً فاوحی لھا القراء فاستقر اللہ نے زمین کی طرف اشارہ کیا تو وہ بک گئی ، استقرر پکڑ لیا ، اسی طرح وحی کا معنی مخفی کلام بھی ہوتا ہے ۔ جس میں تیزی کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی جو چیز کسی کو سرعت کے ساتھ القاء کی جائے وہ وحی کہلاتی ہے۔ جیسے سورة الانعام میں فرمایا ، ہم نے انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین کو یہ پیغمبر کا دشمن بنایا ہے۔ یُوْحِیْ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ( آیت : 112) جو ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے ، اسی طرح وحی کا اطلاق پیغام پر بھی ہوتا ہے وحی قرآن پاک کی اصطلاح ہے جس کے مذکورہ مختلف معانی وارد ہوتے ہیں ۔ وحی کی قسمیں وحی کی ایک قسم خاص ہے جو وحی رسالت یا وحی نبوت کہلاتی ہے اور یہ صرف اللہ کے رسولوں یا نبیوں کی طرف ہوتی ہے۔ اللہ کے رسول اور نبی اس وحی کے امین ہوتے ہیں اور اسے آگے دوسروں تک پہنچاتے ہیں ۔ وحی کی ایک قسم وہ ہے جو انبیاء پر بھی ہوتی ہے ۔ اس وحی کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کوئی بات کسی کو مخفی طریقے سے سمجھا دی جاتی ہے یا اس کی طبیعت اور مزاج میں اس کو ڈال دیا جاتا ہے۔ جیسے فرمایا واوحی ربک الی النحل ( النحل : 68) تیرے پروردگار نے شہدمیوں کی طرف وحی کی کہ وہ پاکیزہ پھلوں اور پھولوں کا رس چوسیں ، اسے اپنے پی میں جمع کریں اور پھر شہد کی صورت میں باہر نکالیں ۔ اللہ نے یہ پیغام کسی فرشتے کے ذریعے نہیں پہنچایا بلکہ شہد کی مکھیوں کو بالطبع یہ بات سمجھا دی گئی ہے کہ وہ ایسا کریں ۔ اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف وحی کرنے کا بھی ذکر آیا ہے۔ اذ اوحینا الی امک ما یوحی (طہٰ : 38) اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم نے تمہاری والدہ کی طرف وحی کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دو ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس طریقے سے اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی دست برد سے محفوظ رکھا ۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ نے یہ وحی فرشتہ بھیج کر کی ہو یا پھر طبیعت میں براہ راسہ القا کردیا ہو کہ یہ بھی وحی ہی کی ایک قسم ہے۔ اس قسم کا اشارہ بیداری میں بھی ہو سکتا ہے اور خواب کی حالت میں بھی ، عام لوگوں کے لیے اس قسم کی وحی قطعی نہیں ہوتی ، البتہ انبیاء (علیہم السلام) کے لیے ایسا القا قطعی اور یقینی ہوتا ہے۔ اس کی مثال سورة الفتح میں ملتی ہے لقد صدق اللہ ورسولہ الرء یا بالحق ( آیت 27) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا خواب سچا کر دکھایا کہ تم مسجد حرام میں اگر اللہ نے چاہا تو اپنے سر منڈوا کر اور بال کتروا کر امن وامان کے ساتھ داخل ہو گے چناچہ حضور ﷺ کا یہ خواب صرف بحرف پورا ہوا ، گویا بعض اوقات اللہ اپنے نبیوں کو خواب کے ذریعے احکام پہنچا دیتا ہے اور کبھی غیب سے آواز آتی ہے جسے ہاتف کہتے ہیں کہ نبی اس بات کو سمجھ لیتے ہیں ، البتہ غیر نبی پر جو وحی آتی ہے وہ صرف الہام کی ایک شکل ہوتی ہے جو کہ شریعت نہیں ہوتی ۔ وحی نبی اور غیر نبی میں یہی فرق ہے ۔ سورة مریم میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی طرف وحی کا ذکر بھی آیا ہے۔ آپ کی زبان کو کلام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ آپ حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے فاوحی الیھم ان سبحوا بکرۃ وعشیا ( آیت : 11) اور انہیں اشارے سے فرمایا کہ وہ صبح و شام اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کرتے رہیں ۔ یہاں پر وحی کا معنی اشارہ ہے ، بہر حال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان سے براہ راست کلام نہیں کرتا سوائے تین صورتوں میں جن میں سے پہلی صورت وحی ہے ، جب ایسی وحی نبی پر ہوگی تو یہ شریعت ہوگی اور جب غیر نبی پر ہوگی تو اسے الہام سمجھا جائے گا ۔ (2) پس پردہ کلام اللہ نے کلام کرنے کی دوسری صورت یہ بیان فرمائی ہے اومن وری حجاب کہ یہ کلام پردے کے پیچھے سے ہوگا ۔ اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جہان میں کسی سے براہ راست کلام نہیں کرتا ۔ اس دنیا میں اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا تھا۔ جیسے فرمایا وکلم اللہ موسیٰ تکلیما ( النسائ : 164) جب کوہ طور پر آپ نے آگ دیکھی تو اس طرف چل دیے ۔ وہاں پہنچے تو آپ ایک درخت سے پھوٹتی ہوئی نظر آ رہی تھی ۔ اس وقت آواز آئی انی انا ربک ( طہٰ : 12) اننی انا اللہ ( طہٰ : 14) اے موسیٰ میں تیرا پروردگار ہوں ، میں تیرا اللہ ہوں ۔ یہ حجاب نوری تھا یا حجاب ناری تھا جس کے پیچھے سے اللہ نے کلام کیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کو دیکھا نہیں ۔ اور جب آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو اللہ نے فرمایا کہ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے اور پھر جب اللہ نے اپنی تجلی کوہ طور پر ڈالی تو موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گر پڑے ، غرضیکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ براہ راست کلام نہیں کرتا بلکہ یا تو وحی بھیجتا ہے یا پھر پس پردہ کلام کرتا ہے ۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ ایک موقع پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ایک دفعہ میں اللہ تعالیٰ کے بہت ہی قریب ہوگیا ، فرمایا ، کتنا قریب ؟ عرض کیا ، میرے اور پروردگار کے درمیان صرف ستر ہزار پردے حائل رہ گئے۔ مطلب یہ کہ اللہ کی مقرب مخلوق فرشتے بھی اس کو حجاب نوری میں دیکھتے ، سنتے اور اس سے کلام کرتے ہیں ، تو انسان کے ساتھ بھی پردے کے پیچھے سے کلام ہو سکتا ہے ، براہ راستہ نہیں ہو سکتا۔ (3) کلام برسالت رسول اس جہان میں کلام کرنے کی اللہ نے تیسری صورت یہ بیان فرمائی ہے او یرسل رسولا فیوحی باذنہ ما یشاء انہ علی حکیم یا اللہ تعالیٰ کوئی پیغام لانے والا بھیج دے جو اس کے حکم سے جو چاہے وحی پہنچائے۔ بیشک وہ بلند اور حکمتوں والا ہے ۔ پیغام لانے والے سے مراد اللہ کا فرشتہ ہے جو کبھی اپنی اصل شکل میں آتا ہے اور کبھی انسانی شکل میں حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ میں نے جبرائیل امین کو صرف دو دفعہ اس کی اصل شکل میں دیکھا ہے۔ پہلی دفعہ ابتدائے وحی کے زمانہ میں اور دوسری دفعہ معراج کے موقع پر اور نہ عام طور پر آپ حضرت وحیہ ابن خلیفہ کلبی (رح) کی شکل میں پیغام لے کر آتے تھے اور بعض اوقات کسی اجنبی آدمی کی شکل میں بھی آجاتے تھے ۔ احادیث میں اس کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے تو آپ نے فرمایا مثل سلسلۃ الجرس گھنٹی کی سی آواز آتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کا بشریت سے ملکیت کی طرف انسلاخ کر رہے ہیں ۔ پھر فرشتے کا راستہ قلب کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے اور وہ دل میں القاء کردیتا ہے جیسے فرمایا نزل بہ الروح الامین علی قلبک لتکون من المنذین ( الشعرائ : 193 ، 194) اس کو آپ کے دل پر امانت دار فرشتے نازل کیا ہے تا کہ آپ نصیحت کرنے والوں میں ہوجائیں ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ وحی کی حالت سخت شدید ہوتی ہے ، حتیٰ کہ سخت سردی کے موسم میں بھی آپ کی پیشانی مبارک پر پسینہ آجاتا تھا۔ وحی کی دو قسمیں ہیں بعض اوقات الفاظ اور مفہوم دونوں چیزیں القا ہوتی ہیں اس کو وحی مسئلو کہتے ہیں اور بعض اوقات الفاظ القا نہیں ہوتے بلکہ صرف مفہوم ہوتا ہے ۔ اس کو غیر مسلو کہتے ہیں ۔ ایسی صورت میں حضور ﷺ اپنے الفاظ میں مفہوم کو بیان کردیا کرتے تھے ( جیسا کہ بعض احادیث کیونکہ قرآن تمام کا تمام وحی متلو کی شکل میں نازل ہوا ہے) بہر حال اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کے اعتراض کا جواب دیا اور وحی الٰہی کی مختلف صورتیں بیان فرمادیں۔ آگے ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء اور رسل پر وحی بھیج وکذلک اوحینا الیک روحا ً من امرنا اسی طریقے سے ہم نے آپ کی طرف وحی بھیج اپنے حکم سے ایک روح اس مقام پر روح کے دو معانی ممکن ہیں ۔ روح کا معنی قرآن پاک بھی ہو سکتا ہے اور وحی لانے والا فرشتہ بھی ، قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفت ہے اس کو روح اس لیے کہا گیا ہے کہ جس طرح روح انسانی جسم میں داخل ہو کر اس کو زندگی بخشتی ہے اسی طرح قرآن پاک جہالت کی وجہ سے مردہ دنوں کو زندہ کرتا ہے اور روح سے مراد روح الامین یعنی جبرائیل (علیہ السلام) بھی ہے جیسا کہ قرآن میں موجود ہے نزل بہ الروح الامین ( الشعرائ : 193) یعنی جبرائیل (علیہ السلام) اس قرآن کو لے کر نازل ہوئے ، لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس مقام پر روح سے مراد قرآن پاک ہے جو انسان کی حیات جاودانی کا ذریعہ بنتا ہے قرآن پاک کے متعلق سورة ابراہیم کے آغاز میں فرمایا کہ یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے لتخرج الناس من الظلمت الی النور تا کہ آپ لوگوں کو جہالت اور معاصی کی تاریکیوں سے ایمان کی روشنی کی طرف لے آئیں ، یہ قرآن یقینا لوگوں کو کفر اور شرک کے اندھیروں سے نکال کر توحید اور ایمان کی روشنی میں لے آتا ہے ، لہٰذا اس کو روح کہا گیا ہے۔ ایمان اور کتاب آگے اللہ تعالیٰ کا پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب ہے ما کنت تدری ما الکتب ولا الایمان آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ تو درست ہے کہ نزول کتاب سے پہلے آپ اس کتاب سے متعلق تفصیلات نہیں جانتے تھے مگر ایمان کی نفی تو محال معلوم ہوتی ہے کیونکہ ہر نبی نزول وحی سے پہلے بھی مومن ہی ہوتا ہے ۔ کسی بھی نبی سے ایمان کے بر خلاف کفر یا شرک کا ارتکاب آنکھ جھپکنے کے برابر بھی محال ہے کیونکہ اللہ ہر نبی کی عصمت کا خود ذمہ دار ہوتا ہے اور کسی نبی سے کوئی گناہ بھی سرز د نہیں ہونے دیتاچہ جائیکہ وہ ایمان کے خلاف کوئی فعل کرے ۔ تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس مقام پر ایمان سے مراد نماز ہے یعنی نزول وحی سے پہلے آپ نہ قرآن سے واقف تھے اور نہ نماز کی تفصیلات سے کیونکہ نماز کا طریقہ بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی سکھایا تھا۔ ایمان بمعنی نماز کی مثال سورة البقرہ میں بھی ملتی ہے۔ جب نبی (علیہ السلام) کو بیت المقدس سے بیت اللہ شریف کے قبلہ مقرر کیے جانے کا حکم ہوا تو بعض لوگوں کا خیال پیدا ہوا کہ ہماری ان نمازوں کا کیا ہوگا ، جو ہم سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھتے رہے ہیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا وما کان اللہ لیضیع ایمانکم ( آیت : 143) ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان یعنی نمازوں کو ضائع کر دے۔ تمہاری وہ نمازیں بھی اللہ کے ہاں درجہ قبولیت کو پہنچتی ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہاں پر ایمان سے مراد شرع کے تفصیلی احکام میں ، یعنی ایمان تو تھا مگر تفصیلی احکام کا علم نزول وحی کے ساتھ ہی ہوا ۔ البتہ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ نزول وحی سے پہلے اللہ کے نبی قطیب باطنی کے درجے میں ہوتے ہیں ۔ نبی آخر الزمان بھی ایمان ، توحید ، کفر اور شرک سے تو واقف تھے مگر ان کی تفصیلات معلوم نہیں تھیں جو اللہ نے بذریعہ وحی نازل فرمائیں ، اسی لیے فرمایا کہ آپ کتاب اور ایمان کو نہیں جانتے تھے۔ قرآن ذریعہ ہدایت ولکن جعلنہ نور الھدی بہ من نشاء من عبادنا بلکہ ہم نے قرآن پاک کو ایسا نور بنا کر بھیجا ہے کہ جس کے ذریعے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بدنوں میں سے جسے چاہیں اور جس طرح یہ قرآن پاک ذریعہ ہدایت ہے اسی طرح وانک لتھدی الی صراط مستقیم آپ بھی لوگوں کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرماتے ہیں صراط اللہ الذی لہ ما فی السموات وما فی الارض اور وہ راستہ اس وحدہٗ لا شریک کا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے۔ یہ ایسا سیدھا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی رحمت کے مقام تک پہنچاتا ہے ۔ مطلب یہ کہ قرآن اور نبی کی ذات دونوں صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ۔ اس سے توحید کا مسئلہ بھی سمجھ میں آ گیا کہ ہر چیز کا خالق ، مالک ، مدبر اور متصرف اور اللہ تعالیٰ ہے ، وہ ہمہ دان اور ہمہ بین ہے ۔ قدرت کاملہ کا مالک ہے۔ وہ وحدہٗ لا شریک ہے۔ معادہ تذکرہ سورۃ کے آخر میں معاد کا ذکر بھی فرمایا الا الی اللہ تصیرالامور خبردار ! تمام کاموں کا انجام خدا تعالیٰ کی طرف ہی پہنچنے والا ہے۔ سورة النزعت میں فرمایا الی ربک منتھھا ( آیت : 24) جس طرح ہر چیز کا آغاز خدا کی طرف سے ہے اسی طرح ہر چیز کا انجام بھی اسی کی طرف ہونے والا ہے۔ انسانوں کے تمام اعمال نیکی اور بدی سب خدا کے سامنے پیش ہونے والے ہیں ۔ کفار و مشرکین کی نافرمانی اور نیکیوں کی اطاعت و فرمانبرداری سب خدا کی بارگاہ میں پہنچنے والی ہیں ۔ جہاں ہر شخص کو اپنے عقیدہ و اعمال کافر کو وافر جواب دینا پڑے گا۔
Top