Tafseer-e-Haqqani - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
کہہ دو بھلا دیکھو تو سہی اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو ہلاک کرے یا ہم پر مہربانی کرے پھر وہ کون ہے جو منکروں کو دردناک عذاب سے بچا سکے۔
ترکیب : ارء یتم بمعنی اخبرونی کماقال اکثر المفسرین والجملۃ الشرطیۃ ان اھلکنی اللہ الخ سدت مسدالمفعولین فمن یجیرالکافرین الخ جواب الشرط امنابہ وعلیہ توکلنا صفۃ الرحمن وقیل ھو ضمیر الشان امنابہ خبرالرحمن من استفہامیہ فی محل النصب علیٰ انہ مفعول تعلمون ان اصبح شرط غورا خبر اصبح والغور مصدر فی معنی الغایرویقال غار الماء غورا ای نضب فمن یاتیکم الجملۃ جواب الشرط معین ظاہر تراہ العیون وقیل ھومن مَعَنَ الماء اذاکثر وقال قتادۃ والضحاک ای جارٍ ۔ تفسیر : ان امور آخرت کو سن کر کفار آنحضرت ﷺ سے کہہ دیا کرتے تھے کہ کیا ہم پر قحط ‘ وبا وغیرہ کا عذاب آئے گا تو تم بچ جاؤ گے ؟ یہ بھی ایک نامعقول گفتگو تھی اس لیے آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے : قل ارء یتم ان اھلکنی اللہ ومن معی اور حمنا فمن یجیر الکافرین من عذاب الیم کہ اے نبی ! ان سے کہہ دے کہ بتاؤ اگر مجھے اور میرے ساتھ والوں ایمانداروں کو اللہ ہلاک کر دے یا اپنی مہربانی سے بچا لے جو کچھ ہو مگر تم عذاب الیم سے جو تمہارے کفر کا بدلہ ہے کس طرح بچ سکتے ہو، اپنی فکر کرو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کفار آنحضرت ﷺ و صحابہ کرام ؓ کو برا بھلا کہتے تھے اور کو ستے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ ہمارے معبودوں کو نہیں مانتے، یہ جلد ہلاک و برباد ہوں گے۔ اس کے درجواب یہ کہا گیا کہ ہمارا کام اللہ کے ہاتھ میں ہے چاہے ہلاک کرے، چاہے بچا لے مگر تم کو تمہارے معبود عذاب الیم سے کسی طرح بچا نہیں سکتے۔ ہم کو ہلاک کرے یا مہربانی کرے شک کے طور سے نہیں کہا بلکہ آنحضرت ﷺ کو اپنے اوپر اور اپنے گروہ کا مہربانی پر بھروسہ کامل تھا اور آپ کو وعدہ دیا گیا تھا لیکن ایسے محل پر مخالف ہٹ دھرم سے اسی طرح کی گفتگو کی جایا کرتی ہے۔ اسی لیے اس کے بعد فرماتا ہے قل ھوالرحمن آمنابہ وعلیہ توکلنا کہ ان سے کہہ دے وہ رحمان یعنی نہایت مہر کرنے والا ہے ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر ہمارا ہر کام میں بھروسہ ہے۔ بیشک وہ اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں، ایمان لانے والوں کو نوازتا ہے۔ تمہارے بت ہمارا کچھ بھی نہ کرسکیں گے، تم ایسے بیہودہ خیالات کی صریح گمراہی میں ہو ابھی تم کو معلوم ہوجائے گا۔ فستعلمون من ھو فی ضلال مبین۔ کہ کون صریح گمراہی میں پڑا ہوا ہے ؟ ابھی سے کیا مراد ؟ موت کے بعد جو قریب ہے یا وہ بلائیں عنقریب تم پر آنے والیاں ہیں چناچہ قحط آیا مقہور ہوئے۔ یا یہ مراد کہ خدا پاک نورہدایت کو پھیلاتا جاتا ہے، ابھی تم کو بعد میں معلوم ہوجائے گا کہ ہم صریح گمراہی میں تھے چناچہ تھوڑے دنوں کے بعد ہزاروں لاکھوں اسلام کے نور سے منور ہوئے اور بعد میں مقر ہوگئے کہ ہم گمراہی میں تھے، قیامت کے دن گو قیامت بظاہر دور ہے مگر آنے والی ہے اور آنے والی دور بھی نزدیک ہوتی ہے۔ اس کے بعد ان کے بتوں کی کمزوری اور خدائے تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر ایک دلیل بیان فرماتا ہے۔ قل ارء یتم اصبح مائوکم غورا فمن یاتیکم بمائٍ معین۔ کہ ان سے کہہ بھلا بتاؤ تو سہی خدا اگر تمہارے پانی کو (یعنی کنوئوں کے یا نہروں کے پانی کو) سکھا دے تو پھر وہ کون ہے جو کثرت سے پانی تمہارے پاس لے آئے۔ اس بات کو وہ بھی مانتے تھے کہ اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ بس میرا بادشاہ بابرکت جس نے برکت کے یہ سامان کئے اس پر بھی قادر ہے کہ وہ پانی کہ جس پر تمہاری زندگی کا مدار ہے خشک کر دے، پھر وہ قادر نافع و ضار ہے یا تمہارے معبود ؟ میرے معبود کے ہاتھ تمہاری جان ہے تمہارے معبو وں کے ہاتھ میرا کچھ بھی نہیں۔ سبحان اللہ ! کس موقع پر کلام تمام کیا ہے کہ جس کو اول و اوسط سے کمال ارتباط ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس جملے کے بعد مستحب ہے کہ اللہ رب العالمین کہے جس کا یہ مطلب کہ اللہ پانی لائے گا۔ بعض متکبرین نے یہ آیت سن کر کہا کہ ہم کھود کر نکال لائیں گے خدا نے اس کی آنکھوں کا پانی کھو دیا، اللہ سے ڈرتا رہے گستاخی نہ کرے۔
Top