Tadabbur-e-Quran - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
ان سے پوچھو، بتائو اگر اللہ مجھ کو اور ان لوگوں کو جو میرے ساتھ ہیں ہلاک کر دے یا ہم پر رحم فرمائے تو کافروں کو ایک درد ناک عذاب سے کون پناہ دے گا !
طفل تسلیوں کے بجائے حقیقت کو مواجہہ کرنے کی دعوت: جب کفار کو عذاب سے ڈرایا جاتا تو وہ اپنے عوام کو مطمئن رکھنے کے لیے یہ بھی کہتے کہ اس شخص کی دھونس میں نہ آؤ۔ یہ عذاب وغیرہ کی دھمکی محض اس کی خطابت اور شاعری ہے۔ بہت جلد دیکھو گے کہ یہ بھی ختم ہو جائے گا اور اس کی یہ ساری باتیں بھی ہوا میں اڑ جائیں گی۔ یہ ہمیں عذاب سے ڈراتا ہے حالانکہ ہم اس کے اور اس کے ساتھیوں ہی کے لیے گردش روزگار کے منتظر ہیں۔ قرآن میں یہ مضمون جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ ہم سورۂ طور سے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ فرمایا ہے: أَمْ یَقُولُوۡنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوۡنِ ۵ قُلْ تَرَبَّصُوۡا فَإِنِّیْ مَعَکُمۡ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ (الطور ۵۲: ۳۰-۳۱) ’’کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے اور ہم اس کے لیے گردش روزگار کا انتظار کر رہے ہیں۔ کہہ دو، تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے گمان کے مطابق ہمارے لیے گردش روزگار کے منتظر ہو اور ہم تمہارے لیے اس عذاب کے منتظر ہیں جس سے ڈرانے کے لیے خدا نے ہمیں ہدایت فرمائی ہے۔ ہم تمہارے گمان کے باب میں تم سے جھگڑنا نہیں چاہتے۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ ہمیں ہلاک کرے گا یا ہم پر رحم فرمائے گا۔ ہم نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اس وجہ سے امید یہی ہے کہ وہ ہم پر رحم فرمائے گا لیکن فرض کیا کہ تمہارا ہی گمان سچا ثابت ہوتا ہے اور ہم گردش روزگار کے شکار ہو جاتے ہیں تو اس میں تمہارے لیے تسلی کا کیا پہلو ہے؟ آخر تم کو خدا کے قہر و غضب سے بچانے والا کون بنے گا؟ قیامت بہرحال شدنی ہے۔ اس کے شدنی ہونے کے دلائل اٹل ہیں۔ جزا اور سزا یقینی ہے جس کے انکار یا جس سے فرار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کافر اور مومن، نیکوکار اور بدکار دونوں یکساں نہیں ہو سکتے، یہ ایک مسلم حقیقت ہے تو تھوڑی دیر کے لیے مان لو کہ ہم فنا ہو گئے تو اس سے تمہارا کیا بھلا ہو گا، تمہیں تو پھر بھی ان حقائق کا مواجہہ کرنا پڑے گا جن سے ہم تمہیں آگاہ کر رہے ہیں! مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی طفل تسلیوں سے اپنی شامت کو دعوت نہ دو بلکہ ع ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا
Top