Al-Qurtubi - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر مہربانی کرے تو کون ہے جو کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے
اے محمد ﷺ انہیں کہہ دیجیے۔ مراد مشرکین مکہ ہیں۔ وہ حضرت محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کی موت کا انتظار کرتے تھے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون۔ (الطور) بتائو اگر ہمیں متو آجائے یا ہم پر رحم کیا جائے اور ہماری موت کے وقت کو موخر کردیا جائے تو تمہیں عذاب الیم سے کون پناہ دے گا تو تمہیں ہماری موت کے انتظار کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی قیامت کے وقوع کی جلدی کی ضروتر ہے۔ ابن محیصن، مسیب، شیبہ، اعمش اور حمزہ نے اھلکنی کی یاء کو ساکن کیا ہے، باقی قرء نے اسے فتحہ دیا ہے۔ تمام قراء نے کہا، ومن معی کی یاء کو فتحہ دیا ہے مگر اہل کوفہ نے اسے ساکن قرار دیا ہے۔ حفیص نے اسے دوسرے قراء کی طرح فتحہ دیا ہے۔
Top