تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 67. Al-Mulk · Ayah 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿28﴾
- قُلْکہہ دیجئے
- اَرَءَيْتُمْکیا دیکھا تم نے
- اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُاگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ
- وَمَنْ مَّعِيَار اسے جو میرے ساتھ ہے
- اَوْ رَحِمَنَایا وہ رحم کرے ہم پر
- فَمَنْ يُّجِيْرُتو کون پناہ دے گا
- الْكٰفِرِيْنَکافروں کو
- مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍدردناک عذاب سے
Translation · Al-Qurtubi
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر مہربانی کرے تو کون ہے جو کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے
Tafseer · Al-Qurtubi
اے محمد ﷺ انہیں کہہ دیجیے۔ مراد مشرکین مکہ ہیں۔ وہ حضرت محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کی موت کا انتظار کرتے تھے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون۔ (الطور) بتائو اگر ہمیں متو آجائے یا ہم پر رحم کیا جائے اور ہماری موت کے وقت کو موخر کردیا جائے تو تمہیں عذاب الیم سے کون پناہ دے گا تو تمہیں ہماری موت کے انتظار کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی قیامت کے وقوع کی جلدی کی ضروتر ہے۔ ابن محیصن، مسیب، شیبہ، اعمش اور حمزہ نے اھلکنی کی یاء کو ساکن کیا ہے، باقی قرء نے اسے فتحہ دیا ہے۔ تمام قراء نے کہا، ومن معی کی یاء کو فتحہ دیا ہے مگر اہل کوفہ نے اسے ساکن قرار دیا ہے۔ حفیص نے اسے دوسرے قراء کی طرح فتحہ دیا ہے۔